Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
325 - 784
حقیقی مراقبہ:
(7)…ایک شخص نے حضرت سیِّدُناجنید بغدادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی سے پوچھا:”نگاہیں نیچی رکھنے پر  میری  کون   سی بات مدد کرسکتی  ہے؟“ارشادفرمایا:”یہ ذہن بناؤکہ جس کی طرف  تم نظر کررہے ہو اس سے  پہلے  تمہیں  ناظر ِحقیقی (یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ)  دیکھ رہا ہے۔“
(8)…حضرت سیِّدُناجنید بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:حقیقی مراقبہ اس شخص کا ہوتا ہے جسے رب تعالیٰ   کی بارگا ہ  سے حاصل ہونے والے حصے کے فوت ہو جانے کا خوف  ہو۔
جنتی گلاب سے پیدا کی گئی حوریں:
(9)…حضرت سیِّدُنا مالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:”جنت الفردوس میں جنَّتِ عَدْن ہے جس میں جنتی گلاب سے پیدا کی گئی حوریں  ہیں۔“کسی نے  پوچھا :”وہاں کون لوگ رہیں گے؟“ فرمایا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:’’وہ لوگ جو گناہوں کا ارادہ کریں لیکن میری عظمت کو یاد کرکے میرا لحاظ کریں اورجن کی کمریں  میرے خوف سے جھک گئی ہیں وہ جنت عدن میں رہیں گے۔مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم! میں زمین والوں کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو میری رضا کی خاطر بھوکے پیاسے رہتے ہیں تو لوگوں سے عذاب کو پھیر دیتا ہوں۔‘‘
(10)…حضرت سیِّدُنا حارِث مُحاسِبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  سے مراقبہ کے بارے میں دریافت  کیاگیا تو انہوں نے فرمایا: اس کی ابتدا کے وقت دل  میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے قرب کا علم ہونا چا ہئے۔
(11)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ مُرتَعِش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: مراقبہ یہ ہے کہ  غیب کے ملاحظہ کے لئے ہر لمحہ اور ہر کلمہ پر باطن کی حفاظت کی جا ئے ۔
	  مروی ہے  کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فرشتوں سے فرمایا: تم ظاہر پر مقرر ہو اور میں باطن کو دیکھتا ہوں۔
(12)…حضرت سیِّدُنا محمد بن علی حکیم ترمذی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: اپنا مراقبہ اس ذات کے لئے کر جس کی نظر سے تو غائب نہیں ہوسکتا اور اس کا شکر ادا کر جس کی  نہ ختم ہونے والی نعمتیں تجھ پر ہیں اوراس کی عبادت کر جس کی   ذا ت سے تو بے نیاز نہیں ہوسکتا اور  خشوع و خضوع اس کے لئے اختیار کر جس کے ملک