مسلمہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: جب تم لوگوں کے لئے (وعظ کی)مجلس کا انعقاد کرو تو اپنے نفس اور دل کے لئے واعظ بن جاؤ کہ کہیں مجلس میں لوگو ں کی آمد تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے کیونکہ لو گ تمہارے ظاہر کو دیکھتے ہیں جبکہ ربّ تعالیٰ تمہارے باطن کو دیکھ رہا ہے۔
حکایت : ربّ تعالٰی دیکھ رہاہے
منقول ہے کہ کسی صوفی بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ایک نوجوان مرید تھا ۔بزرگ اس نوجوان کو بڑی عزت اور تر جیح دیتےتھے۔ایک مر تبہ کسی مرید نے پوچھا:”آپ اس نو جوان کوزیادہ عزت دیتے ہیں حالانکہ عمر رسیدہ ہم ہیں؟“بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کچھ پرندے منگوائے اور ان سب مریدوں کو ایک ایک پرندہ اور چھری دی اور فرمایا:”تم میں سے ہر کوئی پرندے کو ایسی جگہ ذبح کرے جہاں کوئی دیکھ نہ سکے۔“ نوجوان مرید کوبھی ایک پرندہ دیا اور اس سے بھی وہی بات ارشا دفرمائی۔ہر ایک شخص پرندہ ذبح کرکے لے آیا لیکن نوجوان زندہ پرندہ ہاتھ میں تھا مے واپس آیا۔ بزرگ نے استفسا ر فر مایا:”دوسروں کی طرح تم نے اسے ذبح کیوں نہ کیا؟“ نوجوان نے عر ض کی:”مجھے کوئی ایسی جگہ ملی ہی نہیں جہاں کوئی دیکھتا نہ ہو کیونکہ رب تعالیٰ تو مجھے ہر جگہ دیکھ رہا ہے۔“یہ دیکھ کر سب مریدوں نے اس کے مراقبہ کو پسند کیا اور کہا:”تم واقعی عزت و احترام کے لائق ہو۔“
حکایت : کیا میں عظمت والے بادشاہ سے حیا نہ کروں؟
منقول ہے کہ جب عزیز مصر کی بیوی حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَامکو خلوت میں لےکر آئی تو بُت کا چہرہ ڈھانپ دیا۔ حضرت سیِّدُنا یوسف عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:”تعجب ہے تم پر کہ ایک پتھر کے دیکھنے سے حیا کرتی ہوحالانکہ یہ دیکھ بھی نہیں سکتاتو کیامیں عظمت والے بادشاہ کے دیکھنے سے حیا نہ کروں؟“
حکایت:ستاروں کاپیدا کرنے والا
منقول ہے کہ ایک نو جوان نے غیرکی با ندی سے نفسانی خواہش پوری کرنےکاقصد کیا توبا ندی نے اس سے کہا:”تمہیں شرم نہیں آتی؟“ وہ بولا:”کس سے شرم کروں؟ہمیں تو صرف ستارے دیکھ رہے ہیں۔“ لونڈی نے کہا:”پھر ستاروں کو پیدا کرنے والاکہاں گیا؟“