وَالَّذِیۡنَ ہُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَہۡدِہِمْ رٰعُوۡنَ ۙ﴿۸﴾ (پ۱۸،المؤمنون:۸)
ترجمۂ کنز الایمان:اور وہ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرتے ہیں۔
اور فر ماتا ہے:
وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِشَہٰدٰتِہِمْ قَآئِمُوۡنَ ﴿۳۳﴾۪ۙ (پ۲۹،المعارج:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: اور وہ جو اپنی گواہیوں پر قائم ہیں۔
مراقبہ کے متعلق 18اقوالِ بزرگانِ دین:
(1)…حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایک شخص سے فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھتے رہا کرو۔ اس نے عرض کی:اس کی وضاحت فرمادیجئے؟فرمایا:”ہمیشہ اس طرح رہو گویا تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو دیکھ رہے ہو۔“
(2)…حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زیدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب میرا رب تعالیٰ مجھے دیکھ رہا ہے تو مجھے کسی کی پروا نہیں۔
افضل عمل اور بہترین عبادت:
(3)…حضرت سیِّدُنا ابوعثمان مغربی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:انسان راہ ِسلوک میں جو چیزیں اپنے اوپر لازم کرتا ہے ان میں سب سے افضل محاسَبۂ نفس ، مراقبہ اور علم کے ذریعے اپنے عمل کی جانچ کرنا ہے۔
(4)…حضرت سیِّدُنا ابوعبداللہ احمدبن عطا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:پا بندی سے محاسَبۂ نفس کر ناسب سے بہترین عبادت ہے۔
طریقت کےدو ضابطے:
(5)…حضرت سیِّدُنااحمد بن حسین جریری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہمارا طریقت کامعاملہ دو ضابطوں پر مبنی ہے:(۱)…اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کےلئے اپنے نفس کامحا سبہ و مراقبہ کرنااور(۲)… اپنے علم پر عمل پیراہونا۔
رب تعالٰی باطن کو دیکھ رہا ہے:
(6)…حضرت سیِّدُنا ابوعثمان جِیدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سےحضرت ابوحفص عمرو بن