Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
322 - 784
باب نمبر2:					مراقبہ(اس میں دوفصلیں ہیں)
	جب انسان  نفس کومذکورہ بالا شرائط سے آگاہ کر لے تواسےمراقبہ یعنی اعمال میں غوروفکر کی جانب متوجہ کرے اور اس  پر گہری اور سخت نظر رکھتے ہوئے خوب حفاظت کرے کیونکہ اگر اسے کھلی چھٹی دےدی تو یہ بگڑ کر سرکش ہوجائے گا۔ اب ہم مراقبہ کی فضیلت اور اس کے درجات ذکر کریں گے۔
پہلی فصل:					مراقبہ کی فضیلت
	حضرت سیِّدُنا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے احسان کے بارے میں سوال کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَا ہٗ یعنی تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرو گویااسے دیکھ رہےہو۔“(1)
	ایک روایت میں یوں ہے:”اُعْبُدُ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہٗ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَاِنَّہ یَرَاک یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر تم سے یہ نہ ہوسکے کہ تم اسے دیکھ رہے ہو تو بےشک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“(2)
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفر ماتاہے:
اَفَمَنْ ہُوَقَآئِمٌ عَلٰی کُلِّ نَفْسٍۭ بِمَاکَسَبَتْ ۚ (پ۱۳،الرعد:۳۳)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا وہ ہر جان پر اس کے اعمال کی نگہداشت رکھتا ہے۔
	اور فر ماتا  ہے:
 اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللہَ یَرٰی ﴿ؕ۱۴﴾ (پ۳۰،العلق:۱۴)		ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
	ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ کَانَ عَلَیۡکُمْ رَقِیۡبًا ﴿۱﴾ (پ۴،النسآء:۱)		ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے۔
	نیز فرماتا ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…بخاری، کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی عن الایمان…الخ، ۱/ ۳۱، حدیث:۵۰
2…بخاری، کتاب الایمان، باب سؤال جبریل النبی عن الایمان…الخ، ۱/ ۳۱، حدیث:۵۰
	حلیة الاولیاء،۱۰/ ۲۸۴، حدیث:۱۵۲۳۶،الرقم:۵۶۹،الجنید بن محمد الجنید