Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
321 - 784
 عَلَی اللّٰہ یعنی عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ  کرے اور موت کے بعد کام آنے والے عمل کرے اور بے وقوف وہ ہے جو خواہِشِ نفس کی پیروی کرے پھر بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سےامید رکھے۔“(1)
	لفظ ’’دَانَ‘‘ کا معنیٰ محاسبہ کرنا ہے۔ اسی لئے’’یَوْمُ الدِّیْن‘‘ کو یومِ حساب سے تعبیر کرتے ہیں۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
ءَاِنَّا لَمَدِیۡنُوۡنَ ﴿۵۳﴾ (پ۲۳،الصٰٓفّٰت:۵۳)	ترجمۂ کنز الایمان: تو کیا ہمیں جزا سزا دی جائے گی۔
محاسبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:اپنے نفس کا محاسَبہ کرو اس سے پہلے کہ تمہارا حساب لیا جائے اور وزن کئے جانے سے پہلے اپنے عمل کا خود وزن کرو اور بہت بڑی پیشی کے لئے تیار ہوجاؤ۔
	آپ نے حضرت سیِّدُنا  ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو لکھا:’’ شدت کے حساب سے پہلے راحت کی حا لت میں اپنے نفس کا محا سبہ کرو۔‘‘
	آپ نے حضرت سیِّدُنا کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے پوچھا:”اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب میں آپ محاسَبہ کے بارے میں کیا پاتے ہیں؟“ عرض کی:”زمین کے حساب کرنے والے کو آسمان کے حساب کرنے والے کی طرف سے ہلاکت ہے۔“ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنادرّہ اٹھالیا اور فرمایا:”ہاں مگروہ جو اپنا احتساب خود کرے (وہ محفوظ رہے گا)۔“ حضرت کعب الاحبار رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے عرض کی:”امیر المؤمنین! اسی  طرح یہ با ت تورات میں بغیر کسی فا صلے کے مذکور ہے کہ ان کے درمیان میں کوئی دوسرا کلمہ نہیں۔“
	یہ تمام اقوال اسی  طرف اشارہ  کر تے ہیں  کہ مستقبل کے لئے بھی محاسبہ ہوتا ہے۔حدیث  پاک:”مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ یَعْمَلُ لِمَا بَعْدَ الْمَوْت یعنی جو اپنے نفس کا حساب کرتا ہے وہ موت کے بعد کام آنے والے عمل کرتاہے۔“ کا مطلب یہ ہے کہ اعمال کے سلسلے میں پہلے وزن کرکے خوب سوچے اور غور و فکر کرے پھر اس کے بعدان پر عمل پیرا ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…سنن الترمذی، کتاب صفة القیامة، باب۲۵، ۴/ ۲۰۷، حدیث:۲۴۶۷،’’الاحمق‘‘بدلہ’’العاجز‘‘