اور فرماتاہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا (پ۲۶،الحجرات:۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو۔
نیزفرماتاہے:
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنۡسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ ۚۖ (پ۲۶،قٓ:۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان: اور بےشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بطور تنبیہ اور ڈراتے ہوئے مستقبل میں پر ہیزکا ذکر فرمایا۔
انجام کے بارے میں غور کرو:
حضرت سیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم،شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کی کہ مجھے نصیحت فرمائیے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جب کسی کام کا ارادہ کرو تو اس کے انجام میں غور و فکر کرلو، اگر انجام اچھا ہوتو اسے کرلو اور اگر براہو تو نہ کرو۔‘‘(1)
کسی دانش مند کا قول ہے کہ اگر عقل کو خواہش پر غالب رکھنا چاہتے ہو تو خواہشات کی پیروی اس وقت تک نہ کرو جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لو کیو نکہ دل میں ندامت کا ٹھہرنا خواہش کے پورا نہ ہونے سے زیادہ برا ہے۔
حضرت سیِّدُنا لقمان حکیم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:’’جب مومن اپنے انجام پر نظر رکھتا ہے تو وہ ندامت سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘
عقل مند اور بےوقوف:
حضرت سیِّدُنا شَدَّاد بن اَوْس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ، قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہٗ وَ عَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْاَحْمَقُ مَنْ اَتْبَعَ نَفْسَہٗ ھَوَا ھَا وَتَمَنّٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الزھد لابن المبارک، باب التحضیض علی طاعة اللّٰہ، ص۱۴، حدیث:۴۱،عن محمد بن علی
کتاب الزھد للامام وکیع بن الجراح، باب الاستعداد للموت، الجزء الاول الف، ص۲۴۱، حدیث:۱۶،عن انس رضی اللّٰہ عنہ