Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
32 - 784
 وہ اپنے نفس پر ہی احسان کرنے والا اور اپنے خرچ کردہ مال کا عوض لینے والا ہوتا ہے۔
انسان دووجہ سے شکر کا مستحق نہیں:
 	انسان کے نزدیک اپنے مال کا عوض زیادہ عمدہ ہوتا ہے۔ اگریہ عوض اس کے نزدیک ترجیح نہ رکھتاتو تمہارے لئےاپنا مال ہرگز نہ چھوڑتا لہٰذ وہ دو وجہ سے شکر اور محبت کا مستحق نہیں۔
پہلی وجہ:
	وہ خرچ کرنے میں مجبور ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے خرچ کرنے کے تمام اسباب اس پر مُسَلَّط کردیے ہیں جس کی وجہ سے وہ خلاف کرنے پر قادر نہیں تو یہ بادشاہ کے خزانچی کی طرح ہے کہ اگر بادشاہ کے حکم کی وجہ سے کسی کو خِلْعَت دےدے تو اس کو محسن نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ بادشاہ کی اطاعت اور  اس کاحکم بجالانے میں مجبور ہوتا ہے اور حکم عدولی نہیں کرسکتا اوراگر بادشاہ خزانچی کو اس کے حال پر چھوڑ دیتا تووہ  نہ دیتا پس ہر احسان کرنے والے کا یہی معاملہ ہے کہ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا تو وہ اپنے مال میں سے ایک دانہ بھی خرچ نہ کر تاحتّٰی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس پر خرچ کرنے کے اسباب مسلط فرما دیئے اور اس کے دل میں یہ ڈال دیا کہ خرچ کرنے میں اس کا دینی اور دنیاوی فائدہ ہے اس وجہ سے اس نے خرچ کیا۔
دوسری وجہ:
	اپنے مال کے عوض میں وہ چیز لیتا ہے جو اس کے نزدیک خرچ کردہ مال سے زیادہ عمدہ اور محبوب ہوتی ہے تو جس طرح کچھ بیچنے والے کو احسان کرنے والا نہیں کہا جاسکتا کہ وہ ایسی شے کے عوض میں مال خرچ کرتا ہے جو اس کے نزدیک مال سے زیادہ محبوب ہوتی ہے اسی طرح مال دینے والا بھی ثواب یاتعریف وتوصیف یا کوئی اور عوض مال کے بدلے میں لیتا ہےاور عوض کا نقد مال ہونا شرط نہیں بلکہ جمیع فوائد اور لذتیں ایسے عوض ہیں کہ ان کے سامنے نقد اموال کی کوئی حیثیت نہیں۔ پس احسان جود و سخا کی صورت میں ہوتا ہے اور سخاوت کا مطلب ہے مال کو اس طرح خرچ کرنا کہ مال خرچ کرنے والے کو اس کا کوئی عوض اور فائدہ نہ ملے اور ایسی سخاوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ کسی اور سے ہونا محال ہے، اسی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمام جہانوں پر