نفس بعض باتوں میں اطاعت کرے تو بقیہ امور میں شرائط کی پابندی کروانے کی ضرورت باقی رہے گی اور انسان کواگر ہر روز کوئی نہ کوئی کام یانیاواقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ادائیگی کاطریقہ الگ ہوگا اور اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حق جداگانہ طریقے پر ہوگا۔یہ مُعاملات دنیاوی لوگوں مثلاًحکومت کرنے والےیا تاجر حضرات یا پڑھانے والوں کے ساتھ زیادہ پیش آتےہیں شا ید ہی کوئی ایسا دن ہو جس میں اس طرح کا واقعہ پیش نہ آتا ہو کہ انہیں حَقِّ خُداوندی کو پورا کرنے کی حاجت نہ ہو۔اسی لئے بندے پر لازم ہے کہ نفس کو استقامت اور اطاعَتِ حق کی تاکید کرتارہےاور اسے غفلت اور بیکار رہنےسے بھی ڈرائے۔اسے بھاگے ہوئے سرکش غلام کو نصیحت کر نے کی طرح نصیحت کرے کیونکہ فطری طور پر نفس عبادات سے بھاگتا ہے اور بندگی سے انحراف کرتا ہے لیکن وعظ و نصیحت نفس پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے:
وَ ذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنۡفَعُ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۵۵﴾ (پ۲۷،الذٰریٰت:۵۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور سمجھاؤ کہ سمجھانا مسلمانوں کو فائدہ دیتا ہے۔
یہ تمام گفتگونفس کی نگہداشت کے پہلے مقام کےحوالے سے تھی اورعمل سے پہلے محاسبہ یہی ہے۔ محاسبہ کبھی عمل کے بعد ہوتا ہے اور کبھی پہلے تاکہ نفس ڈرے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُۚ (پ۲،البقرة:۲۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو۔
یہ محاسبہ مستقبل کے حوالے سے ہے۔
محاسَبَہ کی تعریف:
اعمال کی کثرت اور مقدار میں زیادتی اور نقصان کی معرفت کے لئے جو غور کیا جاتا ہے اسے محاسَبَہ کہتے ہیں۔لہٰذا اگر بندہ اپنے دن بھر کے اعمال کو سامنے رکھے تاکہ اسے کمی بیشی کا علم ہو تو یہ بھی محاسبہ ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَتَبَیَّنُوۡا (پ۵،النسآء:۹۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو جب تم جہاد کو چلو تو تحقیق کرلو۔