تفصیل سے آگاہ کرناچا ہئےبالخصوص زبان اور پیٹ کے بارے میں تاکید کرے۔
٭…زبان: فطری طور پر زبان چلتی رہتی ہے ،اسے حرکت کرنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی لیکن اس کی خطائیں مثلاً غیبت، جھوٹ،چغلی، اپنی پاکیزگی بیان کرنا، مخلوق اور کھانے کی چیزوں کی برائی کرنا، لعن طعن کرنا، دشمنوں کے لئے بد دعا کرنا اور گفتگو کے دوران جھگڑنا وغیرہ وغیرہ اس کے بڑے گناہ ہیں۔ یہ تمام اُمورہم’’زبان کی آفات کے بیان‘‘ میں ذکر کرچکے ہیں۔
زبان ان ہی آفات کے درپے رہتی ہےجبکہ اس کی تخلیق کا مقصد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرے، مخلوق کو نصیحت کرے، علم دین سیکھنے سکھانے میں مصروف رہے، لوگوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ کی طرف بلائے اور ان کے درمیان صلح کروائےاور دیگر نیکیاں کرے۔ لہٰذا نفس کو پابند بناناچا ہئے کہ وہ دن بھر زبان کو ذکر ِ الٰہی کے علاوہ حرکت میں نہ لائے کیونکہ مومن کا بولنا ذکر اور اس کادیکھنا عبرت اور خاموشی غو ر وفکر کے لئے ہونی چاہئے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفر ماتا ہے:
مَا یَلْفِظُ مِنۡ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾(پ۲۶،ق:۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو۔
٭…پیٹ:پیٹ کوحرص چھوڑنے پر مجبور کرو نیزحلال کھانا اور وہ بھی تھوڑا کھا نے کاپابند کرو۔مشتبہ چیزوں اورنفسا نی خواہشات سے اسے روکو اوربقدرِ ضرورت اشیاء پر اکتفا کرنے کی تلقین کرو اور نفس کواس بات کاپابند کرو کہ اگر اس نے اس سلسلے میں مخالفت کی تو پیٹ کو ہر قسم کی خواہشات سے روک کر سزا دی جائےگی تاکہ جس قدر پیٹ نے خواہشات سے زیادہ حاصل کیا وہ بر ابر ہو جائے۔
اسی طرح تمام اعضاء کو پابند کرواور ان تمام شرائط کا احاطہ بہت لمبی گفتگوہے نیزاعضاء کے گناہ اور نیکیاں پوشیدہ نہیں۔نفس کو روز مَرہ کے فرائض سے بھی آگا ہ کرتے رہونیزجن نفلی عبا دات کو اداکر نےپر قدرت رکھتے ہو اور زیادہ سے زیادہ ادا کرسکتے ہو ان کی تفصیل،طریقے،کیفیت اور تمام امور اسباب سمیت سمجھادو۔ یہ وہ شرائط ہیں جن کی ضرورت روزانہ پیش آتی ہے لیکن جب آدمی اپنے نفس کوان شرائط کاپابند بنالے اور نفس بھی ان شرائط پر عمل پیراہو جائے تو پھرشرائط کی پابندی کی ضرورت نہیں رہتی البتہ اگر