Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
317 - 784
آخرت کا خسارہ:
	ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:”یہ ٹھیک ہے کہ گناہ گار کی بخشش ہوگی لیکن کیا وہ نیکی کرنے والوں کے ثواب و درجات  سے محروم نہیں ہوگا؟“
	 گو یا بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےایسا فر ماکر خسا رے اور حسرت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد  فر ماتا ہے:
یَوْمَ یَجْمَعُکُمْ لِیَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِکَ یَوْمُ التَّغَابُنِ ؕ(پ۲۸،التغابن:۹)
ترجمۂ کنز الایمان: جس دن تمہیں ا کھٹا کرے گا سب جمع ہونے کے دن  وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا۔
	یہ تو اوقات کے حوالے سے نفس کو آگاہی ہے۔اس کےبعدنفس کو سات اعضاء یعنی  آنکھ، کان، زبان، پیٹ، شرمگاہ ،ہاتھ اور پاؤں کے حوالے سے آگا ہ کرواور ان اعضاء کو نفس کے حوالے کردو کیونکہ اس تجارت میں یہ اعضاء نفس کے خادم ورعا یا ہیں اوراس  تجارت کے اُمور ان ہی اعضاء کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں نیز جہنم کے سات دروازے ہیں اور ہر دروازے کے لئے ایک حصہ مقرر ہے اور یہ دروازے اِن اعضاء کے ذریعے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرنے والے شخص کے لئے متعین ہیں۔لہٰذا نفس کوآگا ہ کرو کہ ان  اعضا ءکو گناہوں سے محفوظ رکھے۔
اعضاء کی حفاظت کی تفصیل:
٭…آنکھ:آنکھوں  کو غیر محرم یا کسی مسلمان کے ستر  کی طرف نظر کرنے یا کسی مسلمان کو حقارت کی نظر سے دیکھنے سےبچائے بلکہ ہر فضول بات یعنی  جس کی ضرورت نہ ہواس  سے بچائےکیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جس طرح فضول کلام کے بارے میں پوچھے گا اسی طرح بندے سے فضول نظر کے بارے میں بھی سوال کرے گا۔ پھر آنکھ کو اِن امور سے روکنا ہی کا فی نہیں بلکہ اسے اُن اُمورمیں مشغول رکھنابھی ضروری ہے جو اس تجارت  میں مفید ہوں مثلاً وہ اُمور  جن کے لئے آنکھ کو پیدا کیا گیا  یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پیدا کردہ اشیاء کو عبرت کی نگاہ سے اور اچھے اعمال بجالانے کی نیت سے دیکھنانیز قرآن وحدیث   میں غور وفکر کرنا اوروعظ ونصیحت کے لئے حکمَتِ الٰہیہ پرمشتمل  کتابوں  کا مطالعہ کرنا۔نفس کوآنکھ کےساتھ ساتھ با قی تما م اعضاءکے بارے میں