Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
316 - 784
کے لئے دنیامیں آنے کی مہلت مانگتا تاکہ کوئی نیک اعمال کرسکوں۔ اے نفس!تو یہ سمجھ کہ  تجھے موت آگئی تھی، اب  تجھے دوبارہ  دنیا میں بھیجا گیا ہے لہٰذا تو آج کے دن کو ضائع کرنے سے بچ کیونکہ ہر سانس انمول  ہیرا ہے۔ اے نفس!یاد رکھ  دن رات میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں جیساکہ حدیث شریف میں آیاہے:’’(بروز قیامت ) ہر شخص کے لئے دن اور رات  کے چوبیس خزانے پھیلائے جائیں گے اوران میں سے ایک خزانہ بندے کے سا منے   پیش کردیا جائےگا۔اس خزانے  میں وہ اپنے کئے ہو ئے نیک  اعما ل کو نور سے بھرا  ہوا دیکھے گا تو بہت زیادہ خوش ہوگا   کیونکہ یہ انوار عظمت  والے بادشاہ تک پہنچنے کا وسیلہ ہیں اوراس خو شی کاعالم  یہ ہوگا کہ اگراسے  جہنم  والوں میں  تقسیم  کر دیاجائے توجہنمی ا س خوشی  کے سبب اپنی  تکلیف کے احساس  کو بھول جا ئیں۔ پھر بندےکے لئے سیاہ تاریک خزانہ کھولا جائے گا جو بدبو دار ہوگا اور تاریکی اسے ڈھانپے ہوگی یہ گھڑی وہ ہوگی جس میں اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافر مانی کی ہوگی جسے دیکھ کراسے ایسے دہشت وخوف کا سامنا ہوگا کہ اگر اس دہشت و خوف کوجنتیوں میں تقسیم کردیاجائے تو ان پر جنتی نعمتوں کا مزہ کم ہوجائے۔ پھر ایک خزانہ   کھو لاجا ئے گااس میں نہ ظلمت ہو گی نہ نو ر ہوگا یہ گھڑی وہ ہوگی جن میں بندہ سویا رہا یا  عمل سے غافل رہا یا دنیاوی جائز کاموں میں مشغول رہا۔ اس خزانے کو خالی دیکھ کر بندے کو ایسی حسرت  ہوگی جیسے کسی تا جر کو تجارت میں بڑے نفع پر قدرت رکھنے  کے با وجوداور بادشاہ  کواپنی سستی کی وجہ سے موقع ہاتھ سے نکلنے کے سبب نقصان  اٹھانا پڑے۔ اے نفس! تجھے اتنا نقصان اور حسرت کافی ہے،مزید  نہیں۔ اسی طرح بندے  پر زندگی بھر کے خزانے  پیش کئے جائیں گے۔‘‘
 نفس کو سمجھاؤ:
	اپنے نفس کو سمجھاؤ کہ آج محنت کرلے تاکہ خزانے بھرے  رہیں اور  نفس  کوان خزانوں  کے جمع کر نے سےفا رغ  نہ رکھو جو تمہاری سلطنت کا باعث ہیں۔نفس کو سمجھا ؤ کہ سستی، آرام طلبی اور کاہلی کی طرف نہ جائے ورنہ  تم  دیگر لوگوں کو ملنے  والے عِلِّیِّیْن کے درجات سے محروم ہوجاؤگے اگرچہ جنت میں داخل ہوجاؤ لیکن حسرت تم سے چمٹ کر با قی رہے گی نیزنقصان اور حسرت کی تکلیف تم  برداشت نہیں کرپاؤگے اگرچہ  وہ جہنم کے عذاب سے کم  ہے۔