Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
315 - 784
کچھ حاصل نہیں ہوتا جس طرح خائن  ملازم  پر اعتماد  کر کے مال سپرد کردینے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ان مراحل کے پیش نظر محاسَبۂ نفس   اورشرائطِ مقررہ کو پورا کرنے کا مطالبہ ہونا چاہئے کیو نکہ اس اُخروی تجارت کا  ثمرہ  فردوس اعلیٰ(جنت)کی صورت میں ملتا ہے اورانبیاوشہدا عَلَیْہِمُ السَّلَام کی ہمراہی  میں سِدْرَۃُ الْمُنْتَہٰی تک رسائی ملتی ہے اور دنیوی نفع کے بجائے اُخروی نفع کی گہرائی میں جانا بہت ضروری ہے کیونکہ دنیوی نفع اُخروی نعمتوں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہےاوردنیوی نفع  عا رضی بھی ہے جبکہ اُخروی  نعمتیں دائمی ہیں  توایسے مال کا کیافا ئد ہ  جو ہلاکت و بربادی کی طرف لے جا ئے؟ایسے عارضی   فائدے میں  کو ئی بھلائی نہیں   بلکہ اس سے اچھا تو عارضی  شر ہے کیونکہ اگر عارضی شرختم ہوجائے تو  برائی بالکل ختم اور دائمی خوشی حاصل ہوتی ہے لیکن  عارضی  بھلائی کے  ختم  ہونے پر ہمیشہ کے لئے افسوس رہتا ہے  ۔اسی لئے کسی شاعر  نے  کہا:
اَشَدُّ الْغَمِّ عِنْدِیْ فِیْ سُرُوْرٍ		تَیَـقَّنَ عَنْہٗ صَاحِبُہُ انْتِقَالًا
	ترجمہ:جس  خوشی کے چلے جانے کا یقین ہو مجھے اس خوشی  پر زیادہ  رنج و ملال ہے۔
	لہٰذا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہر عقل مند شخص  پرلازم ہے کہ وہ  نفس کے محاسبہ  سے غافل نہ  ہواورنفس کی حرکات و سکنات اور لذات وخیالات  پر سختی   کرے کیونکہ زندگی کا ہر سانس  انمول ہیرا ہے جس سے ہمیشہ  باقی رہنے والی نعمت(یعنی جنت )خریدی جاسکتی  ہےتو ان سانسوں کو ضائع کرنا یاہلا کت والے کاموں میں صَرف کرنا بہت سنگین اوربڑا نقصان ہے جو سمجھدار شخص کاشیوہ  نہیں۔
ہر صبح نفس کو مخاطب کرو:
	جس طرح تاجر شریک کو مال سپرد کرنے سے پہلےکچھ وقت نکالتا ہے جس میں وہ اپنے شریک کو بعض باتوں کا پابند کرتا ہےاسی طرح بندے کو چاہئے کہ وہ نمازِ فجر سے فارغ ہونے کے بعدنفس کو پا بند   بنانے کے لئے کچھ  وقت  دل کے لئے نکالےاوراسے آگاہ کرے کہ اے نفس!میری تمام جمع پونجی یہ زندگی ہے،اگر یہ ضائع ہوگئی تو میرا تمام مال ضائع ہوجائے گا اور مجھے اُخروی تجارت اور اس کے نفع سے مایوس ہونا پڑے گا، آج مجھے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مہلت دی ہے اور ابھی تک موت سے ہمکنار نہیں کیا  گویایہ میرے رب تعالیٰ  کی طرف سےایک  انعام  ہےکیونکہ اگر وہ مجھے دیگر لوگوں کی  طرح موت دے دیتا تو میں بھی صرف ایک دن