نفس کی نگرانی اور محاسبہ کرتے ہوئے اسے سزا دی پھر مجاہدہ کرکے نفس پر عتاب کیا تو گویا نفس کی نگرانی کے لئے انہیں چھ مرحلے اور مقامات سے گزرناپڑتا ہےلہٰذا ان سب کی تشریح اور حقیقت و فضیلت بیان کرنا بھی ضروری ٹھہرا نیز ان مراحل میں کئے جانےوا لےاعمال کی تفصیل بیان کرنا بھی لازمی ہے اوران سب کی اصل محاسَبۂ نفس ہے لیکن ہرمرحلے کامحاسبہ کرنا نگرانی اور مقررہ شرائط کے بعد ہوتا ہے پھر اگرمحاسَبۂ نفس کے بعد عمل میں کمی نظر آئے تو نفس پرعِتاب اور عِقَاب ہوتا ہے۔ اب ہم توفیْقِ خُداوندی سے ان تمام مقامات کی تشریح کر یں گے۔
باب نمبر1: نفس کو شرائط کاپابندبنانا
مشتر کہ ساما ن میں جو لوگ مل کر تجارت کرتے ہیں ان کا مقصد حسا ب وکتا ب میں نفع کی سلامتی ہوتا ہے، تاجر اپنے شریک کو مالِ تجا رت دے کر اس سے مدد حاصل کرتاہے تاکہ وہ تجارت کرے پھر یہ اس سےنفع کاحساب و کتاب کرے۔اسی طرح راہِ آخرت میں عقل تاجر کی طرح ہے جس کا مقصد اور نفع فقط تزکیۂ نفس ہے کیونکہ یہی کامیابی کا باعث ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ زَکّٰىہَا ﴿۹﴾۪ۙ وَ قَدْ خَابَ مَنۡ دَسّٰىہَا ﴿ؕ۱۰﴾ (پ۳۰،الشمس:۹، ۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان: بے شک مراد کو پہنچا جس نے اُسے ستھرا کیا اور نامراد ہوا جس نے اسے معصیت میں چھپایا۔
نفس کو کامیابی اچھے اعمال کے ذریعے ملتی ہے اورعقل آخرت کی تجارت میں نفس سے مددلیتی ہے یعنی اسے استعمال کرتی ہے اور تزکیہ نفس کا پابند کرتی ہے جیسا کہ تاجر اپنے شریک تجا رت اور ملازم سے مدد طلب کرتا ہے تاکہ یہ دونوں مالِ تجارت میں اضافہ کریں۔ تو جس طرح تا جرشریْکِ سے حساب وکتاب کے معاملے میں جھگڑنے سے بچنے کے لئے ان باتوں کا محتاج ہوتا ہے کہ پہلے اسے چندشرائط کاپا بند کرے پھر اس کی نگرانی کرے،اس کے بعدحساب وکتاب کرےپھر (اگر خیانت پائےتو)ڈانٹ ڈپٹ کرےیاسزا دے اسی طرح عقل بھی پہلے نفس کوچندشرائط کاپا بند بنا تی ہے اوران شرائط کے ساتھ چند ذمہ داریاں عائد کر تی ہے نیز کامیابی کے راستوں پر اس کی راہ نمائی کرتی ہے اور ان راستوں پر چلنے کی تاکید کرتی ہےاور لمحہ بھر نفس کی نگرانی سے غافل نہیں ہوتی کیونکہ اگر عقل نفس کو آزادچھوڑدے تو اس سے خیانت اور اصل سرمایہ ضا ئع ہونے کے سوا