Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
313 - 784
(6)…یَوْمَ تَجِدُ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَیۡرٍ مُّحْضَرًا  ۚۖۛ وَّمَا عَمِلَتْ مِنۡ سُوۡٓءٍۚۛ تَوَدُّ لَوْ اَنَّ بَیۡنَہَا وَبَیۡنَہٗۤ اَمَدًۢا بـَعِیۡدًا ؕ وَیُحَذِّرُکُمُ اللہُ نَفْسَہٗ ؕ (پ۳،اٰل عمرٰن:۳۰)
 ترجمۂ کنز الایمان:جس دن ہر جان نے جو بھلا کام کیا حاضر پائے گی اور جو بُرا کام کیا امید کرے گی کاش مجھ میں اور اس میں دور کا فاصلہ ہوتا اور اللہتمہیں اپنے عذاب سے ڈراتا ہے۔
(7)…وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُۚ (پ۲،البقرة:۲۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جان لو کہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو۔
	ا ہْلِ بصیرت  یہ جانتے  ہیں کہ ربعَزَّ  وَجَلَّ سے  کچھ پوشیدہ نہیں، عنقریب ان سے حساب ہونا ہے اور تمام خیالات ولمحات  کا حساب دینا ہے۔انہیں یقین ہےکہ ان خیالات سے حفا ظت کی یہی صورت ہے کہ ہمیشہ سچے دل سے اپنے احوال کی  نگرانی اور نفس  کامحاسبہ کیا جا ئے  نیز ہر سانس  وحرکت   اور ہرلحظہ و لمحہ  نفس پر کڑی نظر رکھی جائے کیونکہ جس نے حساب وکتا ب سے پہلے خود اپنا محاسبہ کرلیا   بروز ِ قیامت اس کا حساب آسان ہوگا اور سوال کے وقت وہ جواب دے سکے گا نیز اس کا انجام  و ٹھکا نابھی اچھا ہوگا اور جو آدمی اپنا محاسبہ نہیں کرتا اسےحشر کے میدان میں زیادہ دیر رکنا پڑے گااوروہ ہمیشہ حسرت کا شکار رہے گا نیز اس کی برائیاں اسے  غضب و رُسوائی میں مبتلا کردیں گی۔
	ان باتوں کے منکشف ہونے  کی وجہ سےاہل بصیرت  نے جان لیاکہ ان خرابیوں سے حفاظت صرف اطاعَتِ خداوندی کے ذریعے  ہی ممکن ہے جیساکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کو صبر اور نفس کی  نگہبانی کا حکم  دیتے ہوئے ارشاد فر مایا:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا ۟ (پ۴،اٰل عمرٰن:۲۰۰)	
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والوصبرکرو اور صبرمیں دشمنوں سے آگے رہو اور سرحد پر اسلامی ملک کی نگہبانی کرو۔
	اہْلِ بصیرت حضرات نے اپنے نفسوں کی نگہداشت اس طرح کی کہ پہلے انہیں  چند  شرائط  کا پابند کیا پھر