Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
31 - 784
 جیسے چاہو تَصَرُّف کرو۔“ تو آپ گمان کریں گے کہ یہ اس شخص کی طرف سے آپ پر احسان ہے جبکہ یہ گمان غلط ہے کیونکہ اس کے احسان کی تکمیل میں اس کی ذات، مال، مال پر قدرت اورمال آپ کے حوالے کرنے کی سوچ وغیرہ تمام چیزوں کا دخل ہے۔ لہٰذاخود احسان کرنے والے، اس کے مال، اس کی قدرت، اس کے ارادے اور اس کی سوچ کو کس نے پیدا کیا؟اور اس کے دل میں آپ کی محبت کس نے ڈالی؟ اس کو آپ کی  طرف کس نے متوجہ کیا اور کس نے اس کے دل میں یہ بات ڈالی کہ”آپ کے ساتھ احسان کرنے میں اس کا کوئی دینی یا دنیاوی فائدہ ہے۔“ اگر یہ سب باتیں نہ ہوتیں تو وہ آپ کو اپنے مال میں سے ایک دانہ بھی نہ دیتااور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ اسباب اس پر مُسَلَّط فرمادیئے اور اس کے دل میں یہ بات بٹھا دی کہ اس کا دینی اور دنیاوی فائدہ اس میں ہے کہ ”وہ مال آپ کے حوالے کرے۔“ تواس لحاظ سے  وہ مال حوالے کرنے میں بے بس اور بے اختیار ہے، اس کا خلاف کر ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا حقیقی احسان کرنے والاوہی ہے جس نے اس کوآپ کے لئے مُسَخّر کردیا اوروہ تمام اسباب اس پر طاری کردئیے جس سے فعْلِ احسان کا وقوع ہواور جہاں تک مال کا اس کے قبضے میں ہونے کا تعلق ہے تووہ ایک واسطہ ہے جس کی وجہ سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا احسان تم تک پہنچتا ہے اور صاحبِ مال اس بارے میں ایسے ہی مجبور ہے جس طرح پَرْنالے میں پانی بہنے پر مجبور ہوتا ہے۔
	پس اگر تم اس کو محسن سمجھو یا واسطہ سمجھ کر نہیں بلکہ ذاتی طور پر احسان کرنے والا سمجھ کر اس کا شکریہ ادا کرو تو بیشک تم معاملے کی حقیقت سے نا واقف ہو کیونکہ انسان اپنے نفس پر ہی احسان کر سکتا ہے اپنے علاوہ کسی اور پر احسان کرنا محال ہے کیونکہ آدمی جو مال خرچ کرتا ہے تو اس کی کوئی غرض ہوتی ہے یا تو اخروی جیسے ثواب یا دنیوی جیسے دوسروں پر احسان رکھنا، انہیں مُسخَّر کرنا، تعریف و سخاوت کی تَشْہِیر چاہنا اور ان کے دلوں کو اپنی اطاعت اور محبت کی طرف کھینچنا وغیرہ اور جس طرح انسان اپنا مال سمندر میں نہیں پھینکتا کیونکہ پھینکنے میں اس کی کوئی غرض نہیں اسی طرح بغیر کسی ذاتی غرض کے کسی آدمی کے ہاتھ میں بھی نہیں دیتا اور وہی غرض اس کا مطلوب اورمقصود ہوتی ہے اور تمہاری(لینے والے کی) ذات مقصود نہیں ہوتی بلکہ تمہارا ہاتھ تو مال پر قبضہ کرنے کا آلہ ہوتا ہے تاکہ مال پر تمہارے قبضہ کے سبب اس کی غرض جیسے ناموری، تعریف، شکرگزاری یا ثواب حاصل ہوجائے تویقیناًاس نے مال قبضہ میں دے کر تمہیں اپنی غرض کے حصول کا ذریعہ بنایا تو ایسی صورتِ حال میں