حضرت سیِّدُنا سعید بن مسیّبرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرے خیال میں یہ تینوں خصلتیں صرف نبی عَلَیْہِ السَّلَاممیں ہی جمع ہوسکتی ہیں ۔
توحید،عبادت اور معرفت میں صِدْق:
یہ ان امور میں صِدْق ہے اورکتنے ہی جلیْلُ القدرصحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے نمازیں ادا کیں اور جنازوں کے ساتھ بھی گئے لیکن اس مقام کو نہ پہنچے ۔تو یہ صِدْق کے درجات اور اس کے معانی کا بیان ہے اور حقیقَتِ صِدْق کے بارے میں مشائخ کرام سے جو کلمات منقول ہیں اُن میں عام طور پر صِدْق کے معانی میں سے ایک معنیٰ پایا جاتا ہے۔البتہ !حضرت سیِّدُناابوبکرورّاقعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقفرماتے ہیں:صِدْق تین ہیں: (۱)…توحید میں صِدْق(۲)…عبادت میں صِدْق اور(۳)…مَعْرِفَت میں صِدْق۔
توحیدمیں صدق تو تمام مؤمنین میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رُسُلِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصِّدِّیۡقُوۡنَ ٭ۖ (پ۲۷،الحدید:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہ جواللہاوراس کے سب رسولوں پر ایمان لائیں وہی ہیں کامل سچے۔
اورعبادت میں صِدْق عُلَمااور اہْلِ ورع(پرہیزگاروں) کے لئے ہوتا ہے جبکہ مَعْرِفَت میں صِدْق اولیا کے لئے ہوتا ہے جو زمین کے اَوْتاد ہیں۔ہم نے جو گفتگو صِدْق کی چھٹی قِسْم میں کی ہے،صدق کی مذکورہ تینوں اَقسام اسی کے گرد گھومتی ہیں اوریہ کہ حضرت سیِّدُناابوبکرورّاق عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَاقنے وہ اَقسام ذکر کی ہیں جن میں صدق ہوتا ہے مگر یہ صدق کی تمام اَقسام کا اِحاطہ نہیں کرتیں ۔
حضرت سیِّدُنااِمام جعفر صادِق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:صِدْق مُجاہَدے کا نام ہے اور یہ کہ تم اللہ عَزَّ وَجَلَّپر اس کے غیر کو ترجیح نہ دو جیساکہ اُس نے تم پر کسی اور کو ترجیح نہیں دی کہ وہ ارشادفرماتا ہے:
ہُوَ اجْتَبٰىکُمْ (پ۱۷،الحج:۷۸) ترجمۂ کنز الایمان:اس نے تمہیں پسند کیا۔
پہاڑوں کی مثل آزمائشیں:
منقول ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت سیِّدُنا موسٰیکَلِیْمُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی طرف وحی