Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
308 - 784
	اسی طرح صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبھی خوفِ خداکے سبب لرزاں وترساں رہتے تھے لیکن وہ اِمامُ الاَوَّلِیْن وَالآخِرِین،سیِّدُالخائفین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوف تک نہیں پہنچ سکے(اورنہ ہی پہنچ سکتے تھے)۔اسی وجہ سے حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے فرمایا:تم ایمان کی حقیقت کو اس وقت تک ہرگز نہیں پا سکتے جب تک تم سب لوگوں کواللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دین میں احمق نہ سمجھو۔
	حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبدُاللہ بن شِخِّیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَدِیْرفرماتے ہیں:”ہر بندہ اپنے اوراپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان معاملات میں احمق ہےمگر یہ کہ بعض دوسرے کی نسبت کم احمق ہوتے ہیں۔“
ایمان کی حقیقت تک رسائی:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عالیشان ہے:لَایَبْلُغُ عَبْدٌ حَقِیْقَةَالْاِیْمَانِ حَتّٰی یَنْظُرَالنَّاسَ کَالْاَبَاعِرِفِیْ جَنْبِ اللّٰہِ ثُمَّ یَرْجِعُ اِلٰی نَفْسِہٖ فَیَجِدُھَااَحْقَرَحَقِیْرٍیعنی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پاسکتا جب تک لوگوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے مقابلے میں اونٹوں کی مثل نہ جانے پھر اپنے نفس کی طرف رجوع کرے تو اسے سب سے زیادہ حقیر پائے۔(1)
حقیقی صِدِّیق:
	ان تمام مقامات میں بندے کا صادِق پایا جانا بہت کم ہے،پھر دَرَجاتِ صدق کی کوئی انتہانہیں اور کبھی بندے میں بعض امورکے سلسلے میں صِدْق ہوتا ہے اوردوسرے بعض میں نہیں۔اَلْغَرَض  اگر وہ تمام امور میں صادِق ہو تو وہ حقیقی صِدِّیق ہے ۔چنانچہ
	حضرت سیِّدُنا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں:تین باتیں ایسی ہیں کہ میں ان میں قوی ہوں اور ان کے علاوہ میں کمزور ہوں:(۱)…میں جب سے مسلمان ہوا ہوں کوئی نماز اس طرح نہیں پڑھی کہ اختتامِ نماز تک کوئی خیال آیا ہو۔(۲)…میں جس جنازہ کے ساتھ گیا فارغ ہونے تک یہی سوچتا رہا کہ یہ(مردہ) کیا جواب دے گا اور اس سے کیا سوال کیا جائے گااور(۳)…میں نے آقائے دوجہاں،رحمَتِ عالمیاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے جو بات بھی سنی تویقین کر لیا کہ یہ حق ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…نوادر الاصول، الاصل الثانی والاربعون والمائة،ص۵۴۹،حدیث:۷۸۶ ،بتغیرقلیل