سیِّدُنااِسرافیلعَلَیْہِ السَّلَام پر ہیبت باری تعالٰی:
مروی ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیِّدُنا جبریْلِ امینعَلَیْہِ السَّلَامسے ارشادفرمایا:’’میں تمہیں تمہاری اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘ انہوں نے عرض کی:آپ اس کی تاب نہ لا سکیں گے۔ارشاد فرمایا:”نہیں! بلکہ تم مجھے دکھاؤ۔“پس انہوں نے چاندنی رات میں جنَّتُ الْبَقِیع کے اندراصلی صورت دکھانے کاوعدہ کرلیا۔حَسبِ وعدہ جب وہ آئے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھا کہ حضرت سیِّدُناجبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے اُفُق یعنی آسمان کے کناروں کو ڈھانپ رکھا ہے تو رسولُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبے ہوش ہوکر زمین پر تشریف لے آئے۔ جب افاقہ ہوا تو حضرت سیِّدُناجبریلعَلَیْہِ السَّلَامپہلی صورت پر آچکے تھے۔حضورنبیّ اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی مخلوق میں کوئی اس طرح ہوگا۔(1)حضرت سیِّدُناجبریلعَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:”اگر آپ حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامکواصل صورت میں دیکھ لیں تو کیسا ہو؟عرش ان کے کاندھے پر ہے اور ان کے دونوں پاؤں سب سے نچلی زمین سے پار ہیں،اس کے باوجود وہ عظمَتِ الٰہی کی وجہ سے اتنا سکڑتے ہیں کہ ایک چھوٹے پرندے کی طرح ہوجاتےہیں۔“
غور کیجئے کہ حضرت سیِّدُنا اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَامپر کتنی عظمت وہیبت چھاجاتی ہوگی کہ اس حد تک پہنچ جاتے ہیں،تمام فَرِشتوں کی یہ حالت نہیں کیونکہ معرفت میں وہ متفاوت(یعنی جداجدا)ہیں پس تعظیم میں یہی صِدْق ہے۔
سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکا خوفِ خدا:
حضرت سیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ مکی مَدَنی سلطان،رحمَتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:مَرَرْتُ لَیْلَةَ اَسْرٰی بِیْ وَجِبْرِیْلُ بِالْمَلَاِالْاَعْلٰی کَالْحِلْسِ الْبَالِیْ مِنْ خَشْیَةِاللّٰہِ تَعَالٰییعنی شَبِ معراج میں نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامکو ملائے اعلیٰ میں دیکھا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف کے سبب وہ ایسے تھے جیسے اونٹ کی پُشت پر ڈالی جانے والی پرانی چادرہو۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد لابن المبارک، باب تعظیم ذکر اللّٰہ،ص۷۴، حدیث:۲۲۱
2…المعجم الاوسط،۳/ ۳۰۹،حدیث:۴۶۷۹