Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
306 - 784
  نے یہی آیتِ طَیِّبَہ تلاوت کی تھی۔(1)
ایک مثال سے سمجھیں :
	ہم تمہیں خوف کے متعلق ایک مثال سے سمجھاتے ہیں کیونکہ جو بندہ بھیاللہ عَزَّ  وَجَلَّاورقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے ڈرتا ہے اور اس پر لفظ’’خوف‘‘ کااطلاق کیا جاتا ہے لیکن یہ خوف صادق نہیں ہوتا یعنی حقیقت کے درجے کو نہیں پہنچا ہوتا۔کیا تم بندے کو نہیں دیکھتے کہ جب اسے کسی بادشاہ یا سَفَر میں کسی ڈاکو کا خوف ہو تو کیسے اس کا رنگ زرد ہوجاتا، اس پر کپکپی طاری ہوجاتی، اس کی زندگی بدمزہ ہوجاتی، اس کے لئے کھانا پینا دشوار ہوجاتااوراس کی سوچ بٹ جاتی ہے یہاں تک کہ اس کے اہل وعیال اس سے نفع نہیں اُٹھا پاتے اور بسا اوقات خوف کی وجہ سے وطن چھوٹ جاتا ہے، اُنْس و راحت کی جگہ وحشت و مشقت کو برداشت کرتا اورطرح طرح کے  خطرات سے دوچارہوتا ہے اور یہ سب(بادشاہ یا ڈاکو کی جانب سے )مصیبت  پہنچنے کے خوف کی وجہ سے ہوتا ہے۔
	اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے غورکیجئے،پھر کیا وجہ ہے کہ بندہ جہنم سے تو ڈرتا ہے لیکن جب گناہ کا اِرتکاب کرتا ہے تو اس پر ان باتوں میں سے کچھ بھی ظاہر نہیں ہوتا ۔اسی وجہ سے حضورسرورِ کونین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”لَمْ اَرَ مِثْلَ النَّارِ نَامَ ھَارِبُھَا وَلَامِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُھَایعنی میں نے جہنم کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس سے بھاگنے والا سویاہواہواور نہ جنت کی مثل کوئی چیز دیکھی کہ جس کا طلب گار سویاہواہو۔“(2)
	ان امور میں حقیقت کو پہنچنا بہت نادر ہے اور ان مقامات کی کوئی انتہابھی نہیں کہ اس کے کمال کو پایا جاسکے لیکن ہر بندے کو اپنے حال کے مطابق اس میں سے کم یا زیادہ حصہ ملتا ہے،لہٰذاجب قوی اور زیادہ حصہ ہوتو ایسی صورت میں بندے کو صادق کہا جاتا ہے۔اَلْغَرَض اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی معرفت،اس کی تعظیم اور اس کے خوف کی کوئی انتہا نہیں۔چنانچہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تعظیم قدر الصلاة للمروزی، باب ذکر الاخبار المفسرة بان الایمان…الخ،جز  ء۱،ص۴۱۶، حدیث:۴۰۸
	المستدرک، کتاب التفسیر، باب الطواف بین الصفا والمروة من سنة ام اسماعیل،۲/ ۶۶۴،حدیث:۳۱۳۱
2…سنن الترمذی، کتاب صفة جھنم، باب رقم۱۰، ۴/ ۲۷۰،حدیث:۲۶۱۰