صادق وہی ہے جو ان کی حقیقت کو پالے اور جب کوئی شے غالب ہو اور اس کی حقیقت بھی کامل ہو تو اس کے ساتھ موصوف شخص کو صادق کہتے ہیں جیسے کہا جاتا ہے”فلاں لڑائی میں سچا ہے۔“اورکہتے ہیں ”یہ خوف سچا ہے۔“اور”یہ شہوت سچی ہے۔“اورصادِقِیْن کے متعلِّق ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنۡفُسِہِمْ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾ (پ۲۶،الحجرات:۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان:ایمان والے تو وہی ہیں جواللہاور اس کے رسول پرایمان لائے پھرشک نہ کیا اور اپنی جان اورمال سےاللہکی راہ میں جہاد کیا وہی سچے ہیں۔
جب ایمان کے متعلق سوال ہوا:
حضرت سیِّدُناابوذررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ایمان کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے یہ آیتِ مُبارَکہ تلاوت فرمائی:
لَیۡسَ الْبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓئِکَۃِ وَ الْکِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ وَاٰتَی الْمَالَ عَلٰی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَ الْیَتٰمٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَ ابْنَ السَّبِیۡلِۙ وَالسَّآئِلِیۡنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَۚ وَالْمُوۡفُوۡنَ بِعَہۡدِہِمْ اِذَا عٰہَدُوۡاۚ وَالصّٰبِرِیۡنَ فِی الْبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیۡنَ الْبَاۡسِؕ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ صَدَقُوۡاؕ (پ۲،البقرة:۱۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:کچھ اصل نیکی یہ نہیں کہ منہ مشرق یا مغرب کی طرف کرو ہاں اصل نیکی یہ کہ ایمان لائے اللہ اور قیامت اورفرشتوں اورکتاب اورپیغمبروں پراوراللہکی محبت میں اپنا عزیزمال دے رشتہ داروں اوریتیموں اور مسکینوں اورراہ گیراورسائلوں کواورگردنیں چھوڑانے میں اورنمازقائم رکھے اورزکوٰۃ دے اوراپناقول پورا کرنے والے جب عہدکریں اورصبروالے مصیبت اورسختی میں اورجہادکے وقت یہی ہیں جنہوں نے اپنی بات سچی کی۔
لوگوں نے عرض کی:ہم نے آپ سےایمان کے بارے میں پوچھا ہے؟تو آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:میں نے حضورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ایمان کے متعلق سوال کیا تو آپ