Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
304 - 784
سچابندہ:
	حضرت سیِّدُناعطیہ بن عبدالغافرعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْغَافِرفرماتے ہیں:جب مومن کا باطن اس کے ظاہر کے موافق ہو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّفَرِشتوں کے سامنے اس پر فخرکرتے ہوئے ارشادفرماتا ہے:”یہ میرا سچا بندہ ہے۔“
	حضرت سیِّدُنامُعاوِیہ بن قُرَّہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے :کوئی ہے جو مجھے رات کو رونے والے اور دن میں ہنسنے والے شخص کا پتا دے۔
سیِّدُناحسن بصریرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا صِدْق:
	حضرت سیِّدُنا عبدالواحد بن زید بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیبیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجب کوئی  کام کرنے کا حکم دیتے تودوسروں سے زیادہ خود اس پر عمل کرتے اور جب کسی کام سے منع کرتے تو سب سے بڑھ کر خود اس سے بچتے اور میں نے کبھی کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جس کے ظاہر و باطن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے زیادہ موافقت ہو ۔
	حضرت سیِّدُناابوعبدالرحمٰن محمدبن حسین زاہدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدبارگاہِ الٰہی میں یوں عرض کرتے:اِلٰھِیْ عَامَلْتُ النَّاسَ فِیْمَا بَیْنِیْ وَبَیْنَھُمْ بِالْاَمَانَةِوعَامَلْتُکَ فِیْمَابَیْنِیْ وَبَیْنَکَ بِالْخِیَانَةِیعنی اے میرے معبود! میں نے اپنے اور لوگوں کے درمیان معاملات امانت کے ساتھ کئے اور اپنے اورتیرے درمیان معاملات میں مجھ سے خیانت ہوگئی۔ پھر خوب روتے ۔
	حضرت سیِّدُناابویعقوب اسحاق بن محمدنَہْرجُوْرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیفرماتے ہیں:صِدْق یہ ہے کہ ظاہرو باطن میں حق کی مُوافَقت ہو۔
	اَلْغَرَ ض ظاہروباطن کا ایک جیسا ہونا صِدْق کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔
(6)…تمام مقاماتِ دین کی تحقیق میں صدق:
	صِدْق کی چھٹی قِسْم سارے دَرَجاتِ صِدْق سے اعلیٰ اورنادرہے اور اس کا تعلُّق مقاماتِ دین سے ہے جیسے خوف،رجا،تعظیم،زُہْد،رِضا،توکُّل،محبت اورتمام اُمُورِطریقت میں صِدْق،کیونکہ ان امور کے کچھ مبادی ہوتے ہیں کہ جن کے ظہور سےیہ نام لئے جاتے ہیں ،پھر ان کی غایتیں اورحقائق ہوتے ہیں حقیقی