Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
303 - 784
اس کی توجہ لوگوں کی طرف نہ ہو اور نہ ہی لوگوں کو دکھانا مقصود ہو۔اس سے نجات اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ ظاہروباطن میں برابری ہویوں کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کی مثل ہو بلکہ باطن ظاہر سے بہتر ہو ،اسی ڈر سے بعض لوگوں نے ظاہر کی بُرائی کو اختیار کر کے بُرے لوگوں کا لباس پہنا تا کہ انہیں ظاہر کی وجہ سے اچھا نہ سمجھا جائے ورنہ  وہ ظاہر کی باطن پر دلالت میں جھوٹے ہوں گے ۔
اِخلاص وصِدْق سے محرومی:
	حاصِل یہ کہ ظاہر کا باطن کے مخالف ہونا اگر قصداً ہو تو اس کا نام ریا ہے اور اس کی وجہ سے اخلاص فوت ہوجاتا ہے اور اگر قصد کے بغیر ہو تو صِدْق نہ رہے گا ۔اسی وجہ سے حضور نبیّ رحمت ،شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتعلیْمِ اُمَّت کے لئے یہ دعا مانگا کرتے:اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ سَرِیْرَتِیْ خَیْرً ا مِّنْ عَلَانِیَتِیْ وَاجْعَلْ عَلَانِیَتِیْ صَالِحَةًیعنی  اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! میرے ظاہر کی نسبت میرے باطن کو بہتر بنا اور میرے ظاہرکو اچھا کردے۔(1)
خالص اورکھوٹا دینار:
	حضرت سیِّدُنایزید بن حارِث عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَارِث فرماتے ہیں:اگر بندے کا ظاہر وباطن ایک جیسا ہو تو یہ عدل ہے اور اگر اس کا باطن اس کے ظاہر کی نسبت افضل ہو تو یہ فضل ہے اور اگر اس کا ظاہر اس کے باطن سے افضل ہو تو یہ ظلم ہے۔پھر آپ نے یہ اشعار پڑھے:
اِذَا السِّرُّ وَالْاِعْلَانُ فِی الْمُؤْمِنِ اسْتَوٰی		فَقَدْ عَزَّ فِی الدَّارَیْنِ وَاسْتَوْجَبَ الثَّنَا
فَاِنْ خَالَفَ الْاَعْلَانُ سِرًّا فَمَا لَــہٗ		عَلٰی سَعْیِہٖ فَضْلُ سِوَی الْـکَدِّ وَالْـعَنَا
فَمَا خَالَصَ الدِّیْنَارُ فِی السُّوْقِ نَافَقَ		وَ مَغْشُوْشُہُ الْمَرْدُوْدُ لَایَقْتَضِی الْمَنَّا
	ترجمہ:(۱)…جب مومن کا ظاہر و باطن ایک جیسا ہو تو وہ دونوں جہان میں عزت و تعریف کا مستحق ہوتا ہے۔
	(۲)…اگر ظاہر باطن کے خلاف ہو تو کوشش کے عوض سوائے مشقت اور تھکاوٹ کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
	(۳)…بازار میں خالص دیناررائج ہوتا ہے جبکہ کھوٹا دیناردھتکار دیاجاتا ہے ، اس کا کوئی وزن نہیں ہوتا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب الدعوات، باب رقم۱۲۳، ۵/ ۳۳۹،حدیث:۳۵۹۷