Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
302 - 784
 غَلَبَہ ہوتا ہے۔اسی وجہ سے امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے استثنا کیا(یعنی معذوری کا اظہار فرمایا)۔چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے  فرمایا:’’اگر میری گردن مارنے کے لئے مجھے مُقَدَّم کیا جائے تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایسی قوم کا امیربنوں جس میں حضرت سیِّدُنا ابوبکرصِدِّیْق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود ہوں مگر یہ کہ قتل کے وقت میرا نفس مجھے کوئی ایسی بات نہ سوجھا دے جسے میں ابھی اپنے دل میں نہیں پاتا کیونکہ میں اس بات سے امن نہیں پاتا کہ نفس پر قتل گراں گزرے اور یہ اپنے عزم سے پھر جائے ۔“آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنے کلام سے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ عزم کو پورا کرنا سخت اور بھاری ہے۔
	حضرت سیِّدُنا ابو سعید خَرّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں:میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ دو فَرشتے آسمان سے اترے ہیں۔انہوں نے مجھ سے دریافت کیا:صدق کیا ہے؟میں نے جواب دیا:عہد کو پورا کرنا۔تو انہوں نے فرمایا:تم نے دُرُست کہا۔یہ کہہ کر وہ آسمان کی طرف بلند ہوگئے ۔
(5)…عمل میں صدق:
	صدق کی پانچویں قسم اعمال میں صدق ہے۔ وہ یہ کہ بندہ اعمال میں کوشش کرےیہاں تک کہ اس کے ظاہری اعمال اس کی کسی ایسی باطنی بات پر دلالت نہ کریں جو اس میں نہیں ہے،ایسا نہ کرے کہ اعمال چھوڑ دے بلکہ بایں طور کہ باطن کو ظاہر کی تصدیق کی طرف کھینچے اور یہ بات اُس کے برعکس ہے جو ہم نے ترکِ ریاکے بارے میں ذکر کیا کیونکہ ریاکار تو اس بات کا قصد کرتا ہے(کہ اس کے ظاہری اعمال کی وجہ سے لوگ اس کے باطن کو بھی ان اعمال کے ساتھ مُتَّصِف جانیں)۔بہت سے لوگ نماز میں خشوع و خضوع کی حالت میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد کسی کو دکھانا نہیں ہوتا لیکن ان کے دل نماز سے غافل ہوتے ہیں ،تو جو شخص انہیں دیکھے گایہی سمجھے گا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے حضور کھڑے ہیں حالانکہ باطنی طور پر وہ بازار میں کسی خواہش کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔تویہ اعمال زبانِ حال سے باطن کی خبر دیتے ہیں جس میں وہ جھوٹا ہوتا ہے اور اس سے اعمال میں صِدْق کی پوچھ گچھ کی جائے گی۔اسی طرح بعض اوقات آدمی سکون ووقار کے ساتھ چلتا ہے جبکہ اس کا باطن وقار کے ساتھ مُتَّصِف نہیں ہوتا تو یہ اپنے عمل میں صادِق نہیں ہوتا اگرچہ