اپنے عزم کو پورا نہ کرنے والے:
حضرت سیِّدُنا امام مجاہِد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِدفرماتے ہیں:دو آدمی لوگوں کے مجمع میں سے نکلے اور کہنے لگے کہ” اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں مال عطا کیا تو ہم ضرور صدقہ کریں گے۔“ لیکن انہوں نے بخل سے کام لیا تو یہ آیتِ مُقَدَّسَہ نازل ہوئی:
وَمِنْہُمۡ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ﴿۷۵﴾(پ۱۰،التوبة:۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوران میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھاکہ اگرہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اورہم ضروربھلے آدمی ہوجائیں گے۔
بعض مفسرینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْننے فرمایا کہ انہوں نے اپنے دل میں کسی چیز کی نیت کی تھی،زبان سے نہیں کہا تھاتو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشاد فرمایا: وَمِنْہُمۡ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾فَلَمَّاۤ اٰتٰىہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَتَوَلَّوۡا وَّہُم مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَبِمَا کَانُوۡا یَکْذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾(پ۱۰،التوبة:۷۵تا۷۷)
ترجمۂ کنز الایمان:اوران میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھاکہ اگرہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اورہم ضروربھلے آدمی ہوجائیں گے توجب اللہنے انہیں اپنے فضل سے دیا اس میں بخل کرنے لگے اورمنہ پھیرکرپلٹ گئے تواس کے پیچھے اللہنے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللہسے وعدہ جھوٹا کیااوربدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے۔
غورکیجئے کہ اس آیتِ طَیِّبَہ میںاللہ عَزَّ وَجَلَّنے ”عزم“ کو عہد فرماکراس کا خلاف کرنے کو”کذب“اور پورا کرنے کو”صدق“قراردیاہے۔
نفس کوئی بات نہ سوجھادے:
یہ صدق تیسری قسم کے صدق سے سخت ہے ،کیونکہ نفس کبھی عزم کرتا ہے پھر اس کو پورا کرنے کے وقت سستی کرتا ہے کیونکہ وہ نفس پر بھاری ہوتا ہے اور اسباب و قدرت حاصل ہونے کے باوجود شہوات کا