عہدپورا کرنے والےعلمبردار:
حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے عَلَم بردارحضرت سیِّدُنامُصْعَب بن عُمَیْررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہغزوۂ اُحد کے دن شہید ہوکر منہ کے بل گرے پڑے تھے،آپ نے ان کے پاس کھڑے ہوکر یہ آیتِ طیبہ تلاوت کی:
رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنْہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ ۫ۖ (پ۲۱،الاحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کچھ وہ مردہیں جنہوں نے سچاکردیا جو عہداللہسے کیا تھاتوان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکااور کوئی راہ دیکھ رہا ہے۔(1)
تصدیق کرنے والے شہدا:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَر فارُوقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں:میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، حبیْبِ لبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوارشادفرماتے سنا کہ شہدا چار ہیں:ایک وہ بندۂ مومن جس کا ایمان کھرا ہے اس کی دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی اور اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تصدیق کی حتّٰی کہ شہید ہوگیا۔یہی وہ شہید ہے جس کی طرف لوگ قیامت کے دن اس طرح اپنی نگاہیں اٹھائیں گے ۔“یہ فرماکر آپ نے اپنا سرِانوراٹھایاحتّٰی کہ ٹوپی مُبارَک نیچے تشریف لے آئی۔راوی بیان کرتے ہیں:”میں نہیں جانتاکہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ٹوپی نیچے گری تھی یاحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی۔“دوسرا کھرے ایمان والا وہ بندہ کہ جب اس کی دشمن سے مڈ بھیڑ ہوئی تو گویااس کے چہرے پر کیکر کا کانٹا مارا گیا،اسے ایک تیر آکر لگا اور وہ شہید ہوگیا تو یہ دوسرے درجے میں ہے۔ تیسرا وہ بندۂ مومن جس نے اعمالِ صالحہ کے ساتھ کچھ بُرے اعمال بھی کئے ہوں، اس کا دشمن سے مقابلہ ہوا پس اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تصدیق کی حتّٰی کہ شہید ہوگیا تو یہ تیسرے درجے میں ہے اورچوتھاوہ مرد جس نے اپنی جان پر زیادتی کی وہ دشمن سے لڑاپس اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکی تصدیق کی یہاں تک کہ شہید ہوگیا تو یہ چوتھے درجے میں ہے ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کتاب الجھاد لابن المبارک،ص۱۱۰،حدیث:۹۵،دارالمطبوعات الحدیثة جدہ
المستدرک، کتاب التفسیر، باب زیارة قبور الشھداء…الخ،۲/ ۶۲۹،حدیث:۳۰۳۱
2…سنن الترمذی، کتاب فضائل الجھاد، باب ما جاء فی فضل الشھداء عند اللّٰہ،۳/ ۲۴۱،حدیث:۱۶۵۰