Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
30 - 784
 وہ اپنے نفس اورخواہشات میں مشغول ہے اور اپنے خالق اور ربّعَزَّ  وَجَلَّسے غافل ہے اور اس نے کما حقہ اپنےربعَزَّ  وَجَلَّکونہیں پہچانااوراس کی نظرخواہشات اورمحسوسات تک محدودہےیعنی وہ نظرکوعالَمِ شہادت (ظاہری دنیا) تک محدود رکھے کہ جس سے لذت حاصل کرنے میں جانور بھی اس کے شریک ہیں اور عالَمِ مَلَکُوْت (غیبی دنیا)پرنظرنہ کرے کہ اس کی زمین کو وہی طے کرتا ہے جسے فَرِشتوں کے ساتھ کچھ مناسبت ہوتی ہے۔ پس وہ عالَمِ ملکوت میں اسی قدرنظر کرتا ہے جس قدراس میں فَرِشتوں والی صفات سے مشابہت پائی جاتی ہے اور عالَمِ ملکوت سے اس کی نظر اسی قدر کوتاہ ہوگی جس  قدر وہ عالَمِ بَہائم میں گرا ہوگا۔                         
اپنے محسن سے محبت:
٭…دوسرے  سبب کے اعتبار سے دیکھیں  اور وہ یہ ہے کہ اپنے مُحسن (یعنی احسان کرنے والے) سے محبت کرنا:مراد یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ مالی ہمدردی کرے، گفتگو میں نرمی برتے، اس کی مدد کرے، اس کے دشمنوں کا قلع قمع کرے اور اس سے شریروں کا شر دور کرے اور اس کی تمام اغراض اور فوائد کے حصول میں وسیلہ بنے خواہ اِن کا تعلق اس کی ذات سے ہو یا اس کی اولادو اقارب سے ہو، تولازمی طور پر ایسا شخص محبوب ہوتاہے۔ یہ سبب بھی صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے محبت کرنے کا تقاضا کرتا ہے کیونکہ جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو پہچاننے کا حق ہے اگر بندہ اس طرح اُسے پہچانے تو ضرور جان جائے گا کہ اس پر احسان کرنے والا صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے اور جہاں تک بندوں پر احسانا ت کی تفصیل کا تعلق ہے تو ان کو شمار کرنے سے ہماری غرض نہیں کیونکہ کوئی بھی اس کے احسانات کو شمار نہیں کرسکتا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: 
وَ اِنۡ تَعُدُّوۡا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوۡہَا ؕ (پ۱۴،النحل:۱۸)		ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر اللہ کی نعمتیں گِنو توانہیں شمار نہ کرسکو گے۔
حقیقی احسان صرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہے:
	”شکر کے بیان“ میں ہم نے بعض نعمتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے۔ یہاں ہم صرف یہ بیان کریں گے کہ لوگوں کی طرف سے احسان مجازی طور پر ممکن ہے جبکہ حقیقی احسان فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے۔
	اسےیوں فرض کیجئے کہ کوئی آدمی اپنے تمام خزانے آپ کو دےدے اور آپ کو اختیار دے کہ ” اس میں