Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
299 - 784
(4)…عَزم کو پورا کرنے میں صِدْق:
	صِدْق کی چوتھی قسم عزم کو پورا کرنے میں صدق ہے۔ نفس بعض اوقات فی الحال عزم کر لیتا ہے اس لئے کہ وعدہ اور عزم کرنے میں کوئی مشقت نہیں ہوتی اور اس میں خرچ بھی تھوڑا ہوتا ہے،لیکن جب وقت آتا ہے، قدرت حاصل ہوتی ہے اورشہوت بھڑکتی ہے تو عزم  کی گرہ کھل جاتی ہے، شہوت غالب آجاتی ہے اور وہ عزم کو پورا نہیں کر سکتااور یہ بات صِدْق کی اس قسم کے خلاف ہے ۔اسی لئےاللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ارشاد فرمایا:
رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ (پ۲۱،الاحزاب:۲۳)	
ترجمۂ کنز الایمان:کچھ وہ مردہیں جنہوں نے سچاکردیا جو عہداللہسے کیا تھا۔ 
اپنے عزم کو پورا کردکھایا:
	حضرت سیِّدُناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں:میرے چچا حضرت سیِّدُنا انس بن نضر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جنگِ بدر میں شریک نہ ہوسکے تویہ بات ان کے دل پر گراں گزری اور انہوں نے کہاکہ ”یہ واحد غزوہ ہے جس میں حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ شریک نہ ہوسکا۔بخدا!اگراللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھے اپنے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک ہونے کی سعادت بخشی تواللہعَزَّ  وَجَلَّضرور ملاحظہ فرمائے گاکہ میں کیا کرتا ہوں۔“پھر جب آئندہ سال وہ غزوہ اُحد میں شریک ہوئے تو حضرت سیِّدُنا سعد بن مُعاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہان کے سامنے سے گزرے اور کہا:”اے ابو عمرو! کہاں کا ارادہ ہے۔“انہوں نے کہا:”جنت کی ہواکتنی عُمدہ ہے۔بے شک میں اُحد کی طرف سے یہ ہوا پاتا ہوں ۔“پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلڑے حتّٰی کہ شہید ہوگئے ۔آپ کے جسم پر80سے زیادہ تیر،تلوار اور نیزے کے زخم پائے گئے ۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ہمشیرہ(بہن)حضرت سَیِّدَتُنارُبَیِّع بنْتِ نضررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَابیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے بھائی کو صرف کپڑوں کی وجہ سے پہچانا۔ان کے حق میں یہ آیتِ مُبارَکہ نازل ہوئی:
رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ (پ۲۱،الاحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کچھ وہ مردہیں جنہوں نے سچاکردیا جو عہداللہسے کیا تھا۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورة الاحزاب،۵/ ۱۳۸، حدیث:۳۲۱۱