نافرمانی نہیں کروں گا ۔“یہ عزم کبھی بندہ اپنے دل میں پاتا ہے اور یہ پختہ اور صادق ہوتا ہےاور کبھی اس کے عزم میں ایک قسم کا میل ،تردُّد اور ضعف ہوتا ہے جو صِدْق فِی الْعَزم(عزم میں صدق)کے مخالف ہوتا ہے۔
عزم میں صدق کا معنیٰ:
یہاں صدق مکمل(یعنی پورا)اور قوی ہونے کے معنیٰ میں ہوتا ہے۔جیسے کہا جاتا ہے:’’لِفُلَانٍ شَھْوَةٌ صَادِقَةٌ یعنی فلاں کی خواہش سچی ہے۔“مطلب پوری اور قوی ہےاور کہا جاتا ہے:”لِھٰذَاالْمَرِیْضِ شَھْوَةٌ کَاذِبَةٌیعنی اس مریض کی خواہش کمزور ہے۔“یہ اس وقت کہتے ہیں جب اس کی خواہش کا سبب قوی اور ثابت نہ ہو یا اس کی خواہش ضعیف ہو ۔پتا چلا کہ کبھی صدق بول کر یہ معنیٰ(یعنی پورا اور قوی ہونا)مراد لئے جاتے ہیں ۔اس معنیٰ کے اعتبار سے صادق اور صِدِّیْق وہ شخص ہے جس کا عزم تمام نیکیوں میں قوتِ تامہ کے ساتھ پایاجائے اور اس میں کسی قسم کا میلان،تردُّد اور ضعف نہ ہو بلکہ اس کا نفس ہمیشہ نیکیوں پر پختہ اور پکا عزم رکھتا ہو جیسا کہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عُمَر فارُوقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا تھا:”اگر بلحاظِ شرافت مجھے مُقَدَّم کر کے میری گردن اڑا دی جائے تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس قوم کا امیر بنو ں جس میں حضرت سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیْقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ موجود ہوں۔“یہ اس لئے فرمایا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے دل میں اس بات کا پختہ عزم اور سچی محبت پائی کہ” خلیْفَۂ رسول حضرت سیِّدُناابوبکرصِدِّیْقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہوتے ہوئے میں امیر نہیں بنوں گا۔“اور اس عزم کو مذکورہ قول کے ساتھ پختہ کر دیا۔
عزم میں مختلف مَراتِب:
عزائم میں صِدِّیْقِین کے مَراتِب مختلف ہوتے ہیں۔کبھی اتنا عزم پاتا ہے کہ اس کی انتہانہیں ہوتی حتّٰی کہ اس کی وجہ سے قتل ہونے پر راضی ہوتا ہے لیکن اگراسے اس کی رائے پر چھوڑدیا جائے تو قتل ہونے کی جُرأت نہ کرے اور اگر اس سے قتل کی بات کی جائے تو اس کا عزم نہیں ٹوٹے گا بلکہ صادِقین اورمؤمنین میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگربالفرض انہیں اس بات کا اختیار دیاجائے کہ تمہیں قتل کیا جائے یا حضرت سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیْقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تو انہیں اپنی زندگی حضرت سیِّدُناابوبکرصِدِّیْقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زندگی سے زیادہ محبوب ہوگی۔