Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
297 - 784
 فرمائے گا:تُو جھوٹا ہے بلکہ تیری نیت یہ تھی کہ تجھے عالِم کہا جائے۔(1)اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے عمل میں نہیں جھٹلائے گااوریہ نہیں فرمائے گاکہ تُو نے عمل نہیں کیا بلکہ اس کے ارادے اور نیت میں اسےجھوٹاقرار دے گا۔
اِرادہ میں دُرُستی عقیدۂ صِدْق ہے:
	بعض مشائخ نے فرمایا:قصدوارادہ میں عقیدۂ توحید کا دُرُست ہونا صِدْق ہے۔ ایسا ہی یہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَ اللہُ یَشْہَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیۡنَ لَکٰذِبُوۡنَ ۚ﴿۱﴾ (پ۲۸،المنافقون:۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہگواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں۔
	حالانکہ منافقین کہہ بھی چکے تھے کہ ”حضور بے شک یقیناًاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے رسول ہیں۔“اور ان کا یہ کلام واقع کے مطابق ہے لیکن اس کے باوجود اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان کی تکذیب فرمائی اور انہیں  زبانی قول کے اعتبار سے نہیں بلکہ دل میں چھپے عقیدے کے اعتبار سے جھٹلایااور تکذیب خبر میں ہوتی ہے اور منافقین کا یہ قول ان کی حالت کے لحاظ سے خبر کواپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے  کیونکہ کہنے والا اپنے بارے میں یہ ظاہر کر رہا ہے کہ اس کا اعتقاد وہ ہے جو وہ زبان سے بول رہا ہے تو قرینہ حالیہ کی وجہ سے قلبی عقیدے پر دلالت کرنے میں اس کی تکذیب کی گئی،کیونکہ وہ اس میں جھوٹا ہے لیکن زبان سے جو تلفُّظ کر رہا ہے اس میں جھوٹا نہیں۔حاصِلِ کلام یہ ہے کہ صدق کے معانی میں سے ایک معنیٰ خلوصِ نیت ہے اور اسے اخلاص کہتے ہیں لہٰذاہر صادق کے لئےمخلص ہونا ضروری  ہے ۔
(3)…عزم میں صدق:
	صدق کی تیسری قسم عزم میں صدق ہے کیونکہ انسان کبھی عمل کا عزم کرتے ہوئے اپنے دل میں کہتا ہےکہ ”اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مجھے مال عطا کرے تو میں تمام یا آدھا مال صدقہ کر دوں گا۔“یا یہ کہ”اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے راستے میں کسی دشمن کو پاؤں تو اس سے لڑوں گا اور کچھ پروا نہیں کروں گا اگرچہ قتل کر دیا جاؤں۔“یا کہتا ہے :” اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّمجھے حکومت دے تو میں عدل کروں گا اور ظلم یا مخلوق کی طرف مائل ہوکر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب الامارة، باب من قاتل للریاء والسمعة استحق النار،ص۱۰۵۵، حدیث:۱۹۰۵
               سنن الترمذی، کتاب الزھد، باب ما جاء فی الریاء والسمعة،۴/ ۱۶۹،حدیث:۲۳۸۹