Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
296 - 784
مُقَیَّدتھااور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا حقیقی بندہ وہی ہے جو پہلے غَیْرُاللہ سے مطلق آزادی حاصل کرے کہ جب یہ آزادی آئے گی تو دل غیر سے خالی ہوگااورپھر اس میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بندگی سمائے گی،پھر یہ بندگی اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اوراس کی محبت میں مستغرق کردے گی اور اس کا ظاہر و باطن اطاعَتِ الٰہی کے ساتھ مُقَیَّد ہوجائے گا تو اس کا مطلوب و مقصود صرف ذاتِ باری تعالیٰ ہوگی۔بسااوقات اس مقام سے ترقی کر کے بندہ اس سے اعلیٰ مقام تک پہنچ جاتا ہے جسے’’حریّت یعنی  آزادی“کہتے ہیں ۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود بخوداللہ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے ارادہ کرنے سے بھی آزاد ہوجائے بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے لئے جو ارادہ فرمائے خواہ دور کرنے کا یا قریب کرنے کا بندہ اسی پر قناعت کرتا ہے پس اس کا ارادہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے ارادے میں فنا ہوجاتا ہے ۔یہ وہ بندہ ہے جوغَیْرُاللہ سے خَلاصی پاکر آزاد ہوا پھر اپنے نفس سے رہائی پا کر آزاد ہوا اور اپنے آپ سے مفقود(یعنی غائب) ہو کر اپنے آقا و مولیٰعَزَّ  وَجَلَّکے لئے موجود(یعنی حاضر)ہوگیا۔یوں کہ اگر وہ اسے ہلائے تو حرکت کرے اور ٹھہرائے تو ٹھہر جائے اوراگر کسی آزمائش میں ڈالے تو راضی رہے اور اس میں کسی طلَب،اِلتماس اور اِعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی ،بلکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سامنے اس طرح ہوتا ہے جیسےمُردہ غَسّال(یعنی غسل دینے والے)کے ہاتھ میں اور یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بندگی میں صِدْق کی انتہا ہے۔معلوم ہواکہ سچا بندہ وہی ہے جس کا وجود اپنے نفس کے لئے نہ ہو بلکہ اپنے مولیٰ عَزَّ  وَجَلَّکے لئے ہو اور یہ صِدِّیْقِیْن کا درجہ ہے۔اَلْغَرَض غَیْرُاللہ سے آزادی دَرَجاتِ صادِقِیْن میں سے ہےجس کے بعد عُبُودِیَّتِ الٰہی متحقق ہوتی ہے، اس سے پہلے نہ تو  بندہ صادِق کہلانے کا مستحق ہے، نہ ہی صِدِّیْق۔قول میں صِدْق کا یہی معنیٰ ہے۔ 
(2)…نیت واِرادے میں صِدْق:
	صِدْق کی دوسری قسم کا  تعلُّق نیت واِرادے سے ہے اور اس کا مرجع اِخلاص ہے ۔مطلب یہ ہے کہ اس کی حرکات و سکنات کا باعِث صرف اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی ذات ہوتی ہے، اگر اس میں کسی نفسانی غَرَض کی آمیزش ہو جائے گی تو نیت میں صِدْق باطل ہوجائے گا اور ایسے شخص کو جھوٹا کہا جا سکتا ہے جیسا کہ ہم نے”اخلاص کی فضیلت کے بیان“میں تین آدمیوں(عالِم،سخی اورشہید) کے متعلق حدیْثِ پاک ذکرکی ہےکہ جب عالِم سے پوچھا جائے گا کہ تُو نے اپنے علم کے مطابق کہاں تک عمل کیا ؟تو وہ کہے گا:میں نے فلاں فلاں عمل کیا۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد