تلاش میں تھا اور وہ اپنے گھر میں موجود تھے تو اپنی زوجہ محترمہ سے فرمایا:اپنی انگلی سے ایک دائرہ کھینچ لواور انگلی دائرے میں رکھ کر کہو:”وہ یہاں نہیں ہیں۔“اوراس طرح وہ جھوٹ سے بچتے اور ظالِم سے اپنا دفاع بھی کر لیتے،ان کی بات تو سچی تھی لیکن ظالِم یہ سمجھتا کہ وہ گھر میں نہیں ہیں۔بہر حال کلام میں پہلا کمال یہ ہے کہ بغیرکسی ضرورت ومجبوری کے صریح جھوٹ کے ساتھ ساتھ کنایات سے بھی بچے ۔
٭…دوسرا کمال:
اپنے اُ ن الفاظ میں معنیٔ صِدْق کی بھی رعایت کرنا جن کے ذریعے اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ مُناجات کرتا ہے جیسے اگر کوئی یہ کہے:”اِنِّیۡ وَجَّھۡتُ وَجْھِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَیعنی میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے۔“جبکہ اس کا دل اللہ عَزَّ وَجَلَّسے مُنْحَرِف اوردُنیاوی تمناؤں اورخواہشات میں مشغول ہو تو وہ شخص جھوٹا ہے۔اسی طرح اگر یہ کہے:’’اِیَّاکَ نَـعْبُدُیعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں۔‘‘یایہ کہے :’’اَنَاعَبْدُاللّٰہ یعنی میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ ہوں۔“ پس اگر وہ حقیقَتِ بندگی کے ساتھ مُتَّصِف نہ ہو اور اس کا مطلوب اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کچھ اور ہوتو اس کا کلام سچا نہیں ہےاور اگر بروزِ قیامت اس سے کہا گیا:اپنے اس قول’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ ہوں‘‘میں صِدْق(یعنی سچا ہونے) کو ثابت کرتو وہ ثابت نہیں کر سکے گا کیونکہ وہ یا تو اپنے نفس کا بندہ تھا یا دنیا کا یا اپنی خواہشات کا وہ اپنے قول میں سچا نہیں تھااور بندہ جس چیز کے ساتھ مُقَیَّد ہوجائے تووہ اسی کا بندہ کہلاتا ہے جیسا کہ
حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا:’’یَاعَبِیْدَالدُّنیایعنی اے دنیاکے بندو!“
اورحضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:تَعِسَ عَبْدُالدِّیْنَارِ تَعِسَ عَبْدُالدِّرْھَمِ وَعَبْدُ الْحُلَّةِ وَعَبْدُالْخَمِیْصَةِیعنی ہلاک ہو دینار کا بندہ ،ہلاک ہو درہم کا بندہ ،حلے کا بندہ اورجبے کا بندہ۔(1)
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا حقیقی بندہ:
حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہر ایک کو اس شے کا بندہ فرمایا جس کے ساتھ اس کا دل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری، کتاب الرقاق، باب ما یتقی من فتنة المال،۴/ ۲۲۸،حدیث:۶۴۳۵
قوت القلوب،الفصل الخامس والعشرون:تعریف النفس…الخ،۱/ ۱۵۴