وجہ سے اگر کہیں جھوٹ بولنے پر مجبور ہوتو اس میں صِدْق کی صورت یہ ہے کہ ایسے موقع پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے وہ کلام کرے جس کا حق نے اسے حکم دیا ہواور دین اس کا تقاضا کرتا ہو جب وہ اس طرح بولے گا تو صادِق ہوگا اگرچہ اس کے کلام سے خلافِ واقع بات سمجھ آرہی ہو کیونکہ صدق بالذات مقصود نہیں ہوتا بلکہ حق پر دلالت اور اس کی طرف بلانا مقصود ہوتا ہے اس لئے کلام کی ظاہری صورت کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس کے معنیٰ کی طرف نظر کی جائے گی۔ہاں ایسے مواقع میں جہاں تک ہو سکے کنایات کی طرف رجوع کیا جائے۔چنانچہ حضورنبیّ اَکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جب کسی سَفَر کے لئے روانہ ہوتے تواسے چھپاتے(1) تاکہ دشمنوں تک یہ بات نہ پہنچے اوروہ اثنائے سَفَرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو تکلیف دینے نہ پہنچ جائیں۔ اس میں کچھ جھوٹ نہیں۔نیزحضورنبیّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ ذیشان ہے:’’لَیْسَ بِکَذَّابٍ مَّنْ اَصْلَحَ بَیْنَ اثْنَیْنِ فَقَالَ خَیْرً ا اَوْاَنْمٰی خَیْرً ایعنی وہ شخص جھوٹا نہیں جودو آدمیوں کے درمیان صلح کرائے اور اچھی بات کہے یا اسے بڑھائے۔(2)
تین افرادکو خلافِ واقع بات کی اجازت:
مصطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین طرح کےافرادکومصلحت کے مطابق خلافِ واقع کلام کرنے کی رخصت دی ہے:(۱)…جو شخص دو آدمیوں کے درمیان صلح کرائے۔(۲)…جس کی دو بیویاں ہوں(اور وہ انہیں خوش رکھنے کے لئے خلافِ واقع بات کہے)۔(۳)…جس کے پیْشِ نظر جنگ کی مصلحتیں ہوں۔(3) ان مواقع پر صِدْق ، نیت کی طرف منتقل ہو جاتا ہے پس صِدْقِ نیت اور ارادۂ خیر ہی ملحوظ ہوتا ہے تو جب اس کا قصدصحیح اور نیت صادِق ہواور صرف خیر کا ارادہ ہو تو وہ صادق اور صدیق ہوگا اس کے الفاظ چاہے جیسے بھی ہوں ۔پھر بھی اس میں کنایات کا استعمال کرنا بہتر ہے۔
جھوٹ سے بچنے کا حیلہ:
کنایات یعنی بِلاصراحت بات کرنے کاطریقہ وہ ہے جو کسی بزرگ سے منقول ہے کہ کوئی ظالِم ان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الجھاد،باب من ارادغزوة…الخ،۲/ ۲۹۵،حدیث:۲۹۴۷،بذکرغزوة
2…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین،۴/ ۳۶۶،حدیث:۴۹۲۰
3…سنن ابی داود، کتاب الادب، باب فی اصلاح ذات البین،۴/ ۳۶۶،حدیث:۴۹۲۱