دوسری فصل: صدق کی حقیقت اور اس کے معانی و مراتب کابیان
صدق کی چھ اقسام:
جان لیجئےکہ’’صِدْق‘‘کی چھ اقسام ہیں:(۱)…قول میں صدق(۲)…نیت وارادےمیں صدق(۳)… عزم میں صدق(۴)…عزم کو پورا کرنے میں صدق(۵)…عمل میں صدق(۶)…دین کے تمام مقامات کی تحقیق میں صدق۔
پس جو شخص صدق کے ان تمام معانی کے ساتھ مُتَّصِف ہو تو وہ صِدِّیْق ہے کیونکہ وہ صِدْق میں انتہا کو پہنچا ہوتا ہے۔پھر صادِقِیْن کے بھی دَرَجات ہیں تو جس شخص میں مذکورہ معانی میں سے کسی ایک معنیٰ میں صِدْق پایا جائے وہ اسی کے اعتبار سے صادِق کہلائے گا ۔
(1)…زبان کا صدق اور اس کے دوکمال:
پہلی قسم زبان کا صدق ہے اور یہ خبردینے یا اُس کلام میں ہوتا ہے جوخبردینے کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہو اور خبر کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہوتا ہے یا زمانہ مستقبل کے ساتھ اور اس میں وعدے کو پورا کرنا اور اس کی خلاف ورزی کرنا بھی داخل ہے ۔ہر بندے پر ضروری ہے کہ اپنے الفاظ کی حفاظت کرے اور صرف سچی گفتگو ہی کرے ۔صدق کی اقسام میں سے سب سے زیادہ مشہور اور ظاہر یہی قِسم ہے۔پس جو شخص خلافِ واقع(یعنی جھوٹی)خبر دینے سے اپنی زبان کی حفاظت کرے وہ صادِق ہے لیکن اس صِدْق کے دو کمال ہیں:
٭…پہلا کمال :
مبہم کلام اور کنایات(یعنی صراحتاًبات نہ کرنے)سے بچنا۔مقولہ ہے:فِی الْمَعَارِیْضِ مَنْدُوْحَةٌ عَنِ الْـکِذْبِیعنی کنایات میں جھوٹ سے بچنے کی راہ ہوتی ہے۔اور ان سے اس لئے بچناچاہئے کہ یہ جھوٹ کے قائم مقام ہوتے ہیں کیونکہ جھوٹ میں یہی منع ہے کہ شے کواس کی حقیقت کے خلاف سمجھایا جائے مگراس کی کبھی حاجت پڑتی ہے اور بعض اوقات مصلحت اس کا تقاضا کرتی ہے۔مثلاً:بچوں اور عورتوں کو ادب سکھانے،ظالموں سے بچنے، دشمنوں سے جنگ کرنے اور انہیں ملکی رازوں کے متعلق بتانے سے بچنے کے لئے،لہٰذا جو شخص کسی ایسی