Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
292 - 784
قَدْبَـقَیْنَا مِنَ الذُّنُوْبِ حَیَارٰی		نَطْلُبُ الصِّدْقَ مَااِلَیْہٖ سَبِیْلُ
فَدَعَاوِی الْھَوٰی تَخِفُّ عَلَیْنَا		وَخِلَافُ الْھَوٰی عَلَیْنَا ثَقِیْلُ
	ترجمہ:(۱)…ہم گناہوں کے سبب حیران رہے ،ہم صدق چاہتے ہیں لیکن اس کی طرف کوئی راہ نہیں۔
		   (۲)…عشق کا دعوٰی کرنا تو ہم پر آسان ہے لیکن نفس کی مخالفت ہمارے لئے مشکل ہے ۔
راہِ سلوک کی اصل:
	حضرت سیِّدُناسہل تُسْتَرِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیسے کسی نے پوچھا:راہِ سلوک کی اصل کیا ہے؟تو آپ نےفرمایا:صدق،سخاوت اورشُجاعت۔اس نے عرض کی:مزیدکچھ فرمائیے!آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا: تقوٰی،حیااور پاکیزہ حلال غذا۔
صدق کمال پیدا کرتا ہے:
	حضرت سیِّدُناعبدُاللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ پیارے مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کمال کے بارے میں پوچھا گیاتو ارشادفرمایا:’’قَوْلُ الْحَـقِّ وَالْعَمَلُ بِالصِّدْقِیعنی حق بات کہنااورعمل میں صدق اختیار کرنا۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّارشادفرماتا ہے:
لِیَسْـَٔلَ الصّٰدِقِیۡنَ عَنۡ صِدْقِہِمْ ۚ (پ۲۱،الاحزاب:۸)  		ترجمۂ کنز الایمان:تاکہ سچوں سے ان کے سچ کاسوال کرے۔
	حضرت سیِّدُناجُنَیْدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاس آیتِ مُقَدَّسَہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:جولوگ اپنے زُعْم میں صادِق یعنی سچے ہیں بارگاہِ ربُّ الْعالمین میں ان کے صِدْق کے بارے میں پوچھا جائے گااور یہ خطرناک معاملہ ہے۔
(…تُوْبُوْا اِلَی اللہ		اَسْتَغْفِرُاللہ…)
(…صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد…)