Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
29 - 784
 کرتی ہے ، جب معرفت نہیں ہوگی تو محبت بھی نہیں ہوگی اور اس میں قوت یا ضعف آنے سے محبت میں بھی قوت یاضعف پیدا ہوجائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت پہچان والاکرتاہے:
	حضرتِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں:’’مَنْ عَرَفَ رَبَّہُ اَحَبَّہُ وَ مَنْ عَرَفَ الدُّنْیَا زَھِدَ فِیْھَایعنی جو اپنے ربّعَزَّ  وَجَلَّکو پہچان لے گا وہ اس سے محبت کرے گا اور جو دنیا کو پہچان لے گا وہ اس سے بے رغبت ہوجائے گا ۔“(1)
	تو کیسےممکن ہے کہ انسان اپنے نفس سے تو محبت کرے لیکن اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے محبت نہ کرے کہ جس کی وجہ سے اس کے نفس کا قیام ہےاور یہ بات سب جانتے ہیں کہ دھوپ میں مبتلا شخص جب سائے سے محبت کرتا ہے تو لازمی طور پر وہ درختوں سے بھی محبت کرے گا جن کی وجہ سے سایہ قائم ہے اور ہر موجود شے کو اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قدرت کی طرف ویسی ہی نسبت ہے جیسی سائے کو درخت اور روشنی کو سورج کی طرف نسبت ہے کیونکہ تمام اشیاء اسی ذات کے آثارِ قدرت میں سے ہیں اور سب کا وجود اسی کی ذات کے وجود کے تابع ہے جس طرح روشنی کا وجود سورج کے اور سائے کا وجود درخت کے تابع ہے ۔یہ مثال عوام کے ذہنوں کے اعتبار سے صحیح ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ روشنی سورج کا اثر اور فیضان ہے اور اسی کی وجہ سے موجود ہے حالانکہ یہ محض خطا ہے کیونکہ اہْلِ بصیرت پر یہ معاملہ آنکھ کے مشاہدے سے بھی زیادہ واضح ہوچکا ہے کہ جس طرح خود سورج اوراس کی شکل وصورت قدرتِ خدا وندی سے ہے اسی طر ح سورج جب کَثِیْف اجسام کے سامنے آ تا ہے تو اس کی روشنی بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قدرت سے پیدا ہوتی ہے۔ مگر مثالوں سے مقصود سمجھانا ہوتا ہے لہٰذا حقائق مطلوب نہیں ہیں ۔
اپنے ربعَزَّ  وَجَلَّ سے غافل لوگ:
	حاصِلِ کلام یہ ہوا کہ اگر انسان کی اپنے نفس سے محبت ضروری ہے تو اس ذات سے بھی محبت ضروری ہے جس کی وجہ سے پہلے تو اس کا قیام ہے پھر اس کی اصل، صفات، ظاہر، باطن، جوہراور عرض میں دوام (یعنی ہمیشگی) ہےبشرطیکہ وہ ان باتوں کو اسی طرح جانے اور جو اس محبت سے خالی ہواس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…الزھد لابن المبارک، باب الاخلاص والنية،ص۶۹،حدیث:۲۰۹،عن بدیل