Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
289 - 784
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو اپنا مطلوب و مقصود بنا لو۔
خودسچا بن!
	ایک شخص نے کسی دانش وروصاحِبِ حکمت سے کہا:میں کوئی سچا آدمی نہیں دیکھتا۔تو انہوں نے جواب دیا:اگر تُو سچا ہوتا تو ضرور سچے لوگوں کو پہچان لیتا۔
حق،صِدْق اور عدل کا نِفاذ:
 	حضرت سیِّدُنامحمد بن علی کتّانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:ہم نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے دین کوتین اَرکان پر مبنی پایا:(۱)…حق(۲)…صدق اور(۳)… عدل۔پس حق اعضاء پر ،عدل دلوں پر اور صدق عقلوں پر ہوتا ہے۔
محبَّتِ الٰہی  میں صِدْق کی اہمیت:
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ تَرَی الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلَی اللہِ وُجُوۡہُہُمۡ مُّسْوَدَّۃٌ ؕ (پ۲۴،الزمر:۶۰)
 ترجمۂ کنز الایمان:اورقیامت کے دن تم دیکھوگے انہیں جنہوں نےاللہپر جھوٹ باندھا کہ ان کے منہ کالے ہیں۔ 
	حضرت سیِّدُناسُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس آیتِ طَیِّبَہ کی تفسیر میں فرمایا:اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے محبَّتِ الٰہی کا دعوٰی کیا لیکن وہ اس میں صادِق یعنی سچے نہ تھے۔
	اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نےحضرت سیِّدُناداؤدعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف وحی  فرمائی:یَادَاوٗدُ مَنْ صَدَّقَنِیْ فِیْ سَرِیْرَتِہٖ صَدَّقْتُہٗ عِنْدَالْمَخْلُوْقِیْنَ فِیْ عَلَانِیَتِہٖیعنی اے داؤد!جو شخص اپنے دل سے میری تصدیق کرتا ہے میں مخلوق میں اعلانیہ طور پر اسے صادِق(یعنی سچا) ٹھہراتا ہوں۔
صادِق کی حفاظت:
	حضرت سیِّدُناشیخ شِبْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی مجلس میں ایک شخص نے غَلَبَۂ وجد میں آکر چیخ ماری اور خود کو دریائے دِجْلہ میں گرا دیا ۔اس پرآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا :اگر یہ اپنے وجد میں سچا ہوا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے ڈوبنے سے ایسے ہی بچا لے گا جیسے حضرت سیِّدُناموسٰیکَلِیْمُاللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو بچایا تھا اور