Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
288 - 784
صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿۴۱﴾ (پ۱۶،مریم:۴۱)	وہ صدیق تھا غیب کی خبریں بتاتا۔
(2)…وَ اذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِسْمٰعِیۡلَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَکَانَ رَسُوۡلًا نَّبِیًّا ﴿ۚ۵۴﴾ (پ۱۶،مریم:۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اورکتاب میں اسماعیل کویادکروبے شک وہ وعدے کا سچاتھااوررسول تھاغیب کی خبریں بتاتا۔
(3)…وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ﴿٭ۙ۵۶﴾ (پ۱۶،مریم:۵۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اورکتاب میں ادریس کویادکروبے شک وہ صدیق تھاغیب کی خبریں بتاتا۔
صدق نفع بخش ہے:
	حضرت سیِّدُناعبدُاللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں:’’چار باتیں ایسی ہیں کہ جس میں ہوں گی وہ نفع پائے گا:(۱)…صدق(۲)…حیا(۳)…حُسْنِ اَخلاق اور(۴)… شکر۔‘‘
	حضرت سیِّدُنابِشْرحافیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِیفرماتے ہیں:’’جوشخص اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے صدق(سچائی)کا معاملہ کرتا ہے وہ لوگوں سے وحشت محسوس کرتا ہے۔“
سب سے اچھی اور سب سے بُری چیز:
	حضرت سیِّدُناابوعبدُاللہ رَمْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا منصوردَیْنَوَرِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکو خواب میں دیکھ کرپوچھا:مَافَعَلَ اللّٰہُ بِکَیعنیاللہعَزَّ  وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ تو انہوں نے جواب دیا:اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھے بخش دیا اور مجھ پر رحم فرمایا اور مجھے میری توقّع سے بڑھ کر عطا فرمایا۔میں نے پوچھا:سب سے اچھی چیز کیا ہے جس کے ذریعے بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف متوجہ ہوتا ہے؟تو  فرمایا:صِدْق اور سب سے بُری چیز جس کے ذریعے بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ جھوٹ ہے۔
صِدْق کو سُواری بنالو:
	حضرت سیِّدُناابُوسُلَیْمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:صِدْق کو اپنی سُواری،حق کو اپنی تلواراور