باب نمبر3: صِدْق،اس کی فضیلت اور حقیقت کا بیان
(اس میں دوفصلیں ہیں)
پہلی فصل: صِدْق کی فضیلت
صدق کے متعلق آیت وحدیث:
اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے:
رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ (پ۲۱،الاحزاب:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللہسے کیا تھا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب،دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا:اِنَّ الصِّدْقَ یَھْدِیْ اِلَی الْبِرِّ وَ الْبِرُّیَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّةِ وَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَـصْدُقُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَ اللّٰہِ صِدِّیْقًاوَ اِنَّ الْـکِذْبَ یَھْدِیْ اِلَی الْفُجُوْرِ وَالْفُجُوْرُ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِوَاِنَّ الرَّجُلَ لَیَکْذِبُ حَتّٰی یُکْتَبَ عِنْدَاللّٰہِ کَذَّابًایعنی بے شک صِدْق(سچ)نیکی کی طرف لے جاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے اوربے شک آدمی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاں صِدِّیْق لکھ دیا جاتا ہےاوربے شک کِذب(جھوٹ) گناہ کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے اور بے شک آدمی جھو ٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں کَذاب(بہت بڑاجھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔(1)
صِدِّیْق کی مَدْح وتعریف:
صِدْق کی فضیلت میں اتنی بات کافی ہے کہ لفظ’’صِدِّیْق‘‘اسی”صِدْق“سے بناہے اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی مَدح وتعریف کے موقع پر انہیں صِدِّیْق فرمایا۔چنانچہ
درج ذیل فرامین باری تعالیٰ ملاحظہ فرمائیے:
(1)… وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِبْرٰہِیۡمَ ۬ؕ اِنَّہٗ کَانَ ترجمۂ کنز الایمان:اورکتاب میں ابراہیم کو یادکروبے شک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم، کتاب البر والصلة، باب قبح الکذب وحسن الصدق وفضلہ،ص۱۴۰۵، حدیث:۲۶۰۷