میں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حصے سے شیطان کا حصہ زیادہ پایا۔کاش !ان اعمال کا نہ مجھے ثواب ملے اور نہ ہی گناہ۔
اس کے باوجود آفت اور ریا کے خوف سے عمل نہیں چھوڑنا چاہئے اس لئے کہ شیطان کی انتہائی آرزو یہی ہوتی ہے(کہ بندہ عمل چھوڑ دے )کیونکہ مقصود تو یہ ہے کہ اِخلاص فوت نہ ہو اور جب عمل ہی چھوڑ دے گا تو اِخلاص اور عمل دونوں فوت ہوجائیں گے۔چنانچہ
دل کی نگرانی شروع کردی:
منقول ہے کہ ایک فقیر(راہِ طریقت کا مسافر)حضرت سیِّدُنا ابوسعیدخَرَّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکی خدمت کیا کرتا اور ان کے کام کاج میں مدد کرتاتھا۔ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حرکات میں اِخلاص کا ذکر کیا تو وہ فقیرہر حرکت کے وقت دل کی نگرانی اور اس سے اخلاص کا مُطالَبَہ کرنے لگا تو اس پر کام کاج کرنا مشکل ہوگیا جس سے حضرت سیِّدُناابوسعید خَرَّاز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارکو تکلیف ہوئی۔آپ نے فقیر سے اس کاحال پوچھا تو اس نے بتایا کہ” میں اپنے نفس سے حقیقَتِ اخلاص کا مُطالَبَہ کرتا ہوں اور میرا نفس اکثر اعمال میں اخلاص سے عاجز ہوتا ہے جس کی وجہ سے میں عمل چھوڑ دیتا ہوں۔“توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’ایسا مت کرو کیونکہ اخلاص عمل کو ختم نہیں کرتا اس لئے تم عمل پر ہمیشگی اختیار کرو اور اخلاص حاصل کرنے کی کوشش کرو۔میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھاکہ عمل چھوڑ دو بلکہ میں نے تو صرف یہ کہا تھا کہ عمل اخلاص کے ساتھ کرو۔“
عمل چھوڑنا ریااور کرنا شرک:
حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:لوگوں کے سبب عمل چھوڑ دینا ریااور لوگوں کی وجہ سے عمل کرنا شرک ہے۔
دعوتِ اسلامی کے سنتوں کی تربیت کے لئے مَدَنی قافلوں میں سفر اور روزانہ فکرِمدینہ کے ذریعے مَدَنی انعامات کارسالہ پر کرکے ہرمَدَنی(اسلامی)ماہ کے ابتدائی 10دن کے اندر اندر اپنے یہاں کے(دعوتِ اسلامی)کے ذِمَّہ دار کو جمع کروانے کا معمول بنا لیجئے!اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کی برکت سے پابندِسنت بننے، گناہوں سے نفرت کرنے اور ایمان کی حفاظت کے لئے کڑھنے کا ذہن بنے گا۔