Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
285 - 784
	مطلب یہ ہے کہ شرکت کا سب سے مُضِر(نقصان دہ)نتیجہ عمل کا ساقط ہونا ہے،لہٰذااس کے ہوتے ہوئے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے ملنے کی امید نہیں رکھنی چاہئے۔
دوسراجواب:
	اس کے جواب میں یوں بھی کہا جا سکتا ہےکہ جہاد میں شہادت کا منصب اِخلاص کے بغیر نہیں مل سکتا اور یہ کہنا بعید ہے کہ” جس کا دِینی ارادہ  اسے صرف جہاد کے لئےاُبھارے اگرچہ غنیمت نہ ہو اور کفار کے دو گروہوں سے لڑ سکتا ہوجن میں سے ایک مال دار ہواور دوسرامفلس اوریہ دین کی سربلندی اور غنیمت کے حصول کے لئے مال دار گروہ کی طرف مائل ہوتو ایسے شخص کو جہاد کاثواب نہیں ملے گا۔“اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی پناہ کہ معاملہ ایسا ہی ہوکیونکہ یہ دین میں حَرَج اور مسلمانوں میں نا امیدی پیدا کرنا ہے کیونکہ اس طرح کی ضمنی آمیزشوں سے انسان سوائے نادر صورتوں کے کبھی خالی نہیں ہوتااور ایسی آمیزشوں کی تاثیر یہ ہوتی ہے کہ ثواب میں کمی ہوجاتی ہے مگر ان کی وجہ سے عمل بالکل باطل نہیں ہوتا ۔البتہ اس حالت میں انسان کے لئے عظیم خطرہ ہے کیونکہ بسا اوقات وہ یہ گمان کرتا ہے کہ عمل کا زیادہ قوی باعِث تَقَرُّبْ اِلَیاللہ(قُربِ الٰہی)کا قصد ہے حالانکہ اس کے دل پرنفسانی اَغراض کا غَلَبَہ ہوتا ہے اور یہ وہ بات ہے جو انتہائی مخفی رہتی ہے ۔
عمل قبول ہوا یا نہیں:
	اجر اخلاص کے ساتھ ہی حاصل ہوتا ہے اور بندے کو اپنے نفس سے اخلاص کا یقین بہت کم ہوتا ہے اگرچہ وہ انتہائی احتیاط کرے،لہٰذابندے کو چاہئے کہ عمل میں خوب کوشش کے بعد ہمیشہ رداورقبول میں مُتَرَدِّدرہے(یعنی یہ ذہن رکھے کہ پتا نہیں عمل قبول ہوا یا نہیں)اور اس بات سے ڈرتا رہے کہ کہیں اس کی عبادت میں کوئی آفت نہ آجائے جس کا وبال ثواب کی نسبت زیادہ ہو ۔خوفِ خدا رکھنے والے اصحابِ بصیرت کا یہی طریقہ ہوتا تھا اور ہر صاحِبِ بصیرت کو ایسے ہی کرنا چاہئے۔چنانچہ
	حضرت سیِّدُنا سُفیان ثَوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:میرا جو عمل ظاہر ہوگیامیں  اسے شمارنہیں کرتا۔
	حضرت سیِّدُناعبدالعزیزبن ابوداؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:میں60سال تک خانہ کعبہ کامُجاوِر (خادم) رہا اور60حج کئے پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے کئے جانے والے اپنے تمام اعمال کے متعلق نفس کا مُحاسَبَہ کیا تو