سے بھر لئے ہوں۔(1)
(7)…حضرت سیِّدُناعبدُاللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیْبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ عالیشان ہے:”مَنْ ھَاجَرَ یَبْتَغِیْ شَیْئًا مِّنَ الدُّنْیَا فَھُوَ لَـہٗیعنی جو شخص دنیا کی کوئی چیز طلب کرنے کے لئے ہجرت کرے تو اس کی ہجرت اسی کے لئے ہے ۔“(2)
پہلا جواب:
ہم کہتے ہیں کہ یہ احادیْثِ مُبارَکہ ہماری سابِقَہ گفتگو کے خلاف نہیں بلکہ احادیث میں وہ شخص مراد ہے جو عمل سے صرف دنیا چاہتا ہو جیسا کہ حدیث میں فرمایا:’’ مَنْ ھَاجَرَ یَبْتَغِیْ شَیْئًا مِّنَ الدُّنْیَایعنی جو شخص دنیا کی کوئی چیز طلب کرنے کے لئے ہجرت کرے۔‘‘(3)اور دنیا کی طلب ہی اس کے ارادے پر غالب ہواور ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ گناہ اور زیادتی ہے،اس لئے نہیں کہ دنیا کی طَلَب حرام ہے بلکہ اس لئے کہ دِینی اعمال کے ذریعے دنیا طَلَب کرنا حرام ہے کیونکہ اس میں ریا اور عبادت کو اس کی جگہ سے تبدیل کرنا پایا جاتا ہے اور شرکت کا لفظ جہاں کہیں وارد ہوا ہے اس سے مراد مطلق برابری ہے اور ہم بیان کر آئے ہیں کہ جب دوارادے مساوی(برابر) ہوں تو وہ ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجاتے ہیں اور اس عمل پر ثواب اور گناہ کچھ نہیں ہوتا، لہٰذا ایسے عمل پر ثواب کی توقّع نہیں رکھنی چاہئے،پھر انسان شرکت کی حالت میں ہمیشہ خطرے میں ہوتا ہے کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ دونوں باتوں میں سے کونسی بات اس کے ارادے پر غالب آجائے اور عمل اس کے لئے وبال بن جائے۔اسی لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا:
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا ﴿۱۱۰﴾٪ (پ۱۶،الکھف:۱۱۰)
ترجمۂ کنز الایمان:توجسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اوراپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السنن ا لکبری للبیھقی، کتاب السیر، باب بیان النیة التی یقاتل…الخ،۹/ ۲۸۴،حدیث۱۸۵۵۰
2…المعجم الکبیر،۹/ ۱۰۳،حدیث:۸۵۴۰،بدون ذکرالدنیا
3…المعجم الکبیر،۹/ ۱۰۳،حدیث:۸۵۴۰،بدون ذکرالدنیا