Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
282 - 784
اسے  اعمالِ حج کا ثواب اسی وقت ملے گا جب مکہ مکرمہ پہنچ جائے اور اس کی تجارت حج پر موقوف نہیں تو اس کا حج خالص ہے ۔البتہ راستے کا سَفَرمُشْتَرَک ہے پس اگر تجارت کا قصد ہو تو سَفَر کا ثواب نہیں ملے گا ۔
	لیکن درست یہ ہے کہ اس طرح کہا جائےکہ جب حج ہی مُحَرِّکِ اَصْلی ہو اور غَرَضِ تجارت مددگار اور تابع کے طور پر ہو تو نَفْسِ سَفَر بھی کسی ثواب سے خالی نہیں ہوگا ۔میرے نزدیک یہ ہے کہ غازی اس بات میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے کہ وہ کفار کے ساتھ اس جہت میں لڑیں کہ مالِ غنیمت بہت زیادہ ہواور ایسی جہت میں کہ مالِ غنیمت با لکل نہ ہو اور یہ کہنا بھی بعید از عقل ہے کہ یہ فرق معلو م ہونے سے ان کے جہاد کا ثواب باطل ہوجاتا ہے،بلکہ انصاف یہ ہے کہ یوں کہا جائےکہ اگر باعِثِ اَصْلی اور مُحَرِّکِ قویاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دین کی سر فرازی وسربلندی ہو اور غنیمت کی رغبت صرف ضمنی طور پر ہو تو اس سے ثواب باطل نہیں ہوگا۔ہاں!اس کا ثواب اس شخص کے برابر نہیں ہوگا جس کا دل غنیمت کی طرف بالکل متوجہ نہ ہو کیونکہ غنیمت کی طرف اِلتفات بہر حال نقصان ہے۔
ایک اعتراض اوراس کے دوجواب:
	اگر تم کہو کہ آیاتِ مُقَدَّسَہ اور اَحادِیْثِ طَیِّبَہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ریا کی آمیزش ثواب کو باطل کر دیتی ہے،توجہاد میں  طَلَبِ غنیمت کی آمیزش اورحج میں تجارت وغیرہ تمام اَغراض اسی معنیٰ میں ہیں (ان سے بھی ثواب باطل ہونا چاہئے)۔درج ذیل احادیث وآثار اس پر دلالت کرتے ہیں:
(1)…حضرت سیِّدُناطاؤس اوردیگرتابعینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن سے مروی ہے کہ ایک شخص نے حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جو بھلائی کرتا ہے یا صدقہ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور ثواب بھی ملے توآپ نے اسے کوئی جواب نہ دیایہاں تک کہ یہ آیتِ مُبارَکہ نازل ہوئی:
فَمَنۡ کَانَ یَرْجُوۡا لِقَآءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖۤ اَحَدًا﴿۱۱۰﴾٪(پ۱۶،الکھف:۱۱۰)
 ترجمۂ کنز الایمان:توجسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اسے چاہئے کہ نیک کام کرے اوراپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…المستدرک، کتاب الجھاد، باب سبب نزول آیة:فمن کا یرجو لقاء ربہ،۲/ ۴۴۲،حدیث:۲۵۷۳