ریاکے تقاضے کے موافق عمل کرے تو وہ صِفَت قوی ہوگی اور اگر تَقَرُّب کے تقاضے کے موافق عمل کرے تو یہ صِفَت بھی قوی ہوگی اور دونوں میں سے ایک ہلاک کرنے والی اور دوسری نجات دینے والی ہے ۔ اب اگر دونوں کی قوت برابر ہو تو وہ ایک دوسرے کے مقابل ہوجائیں گی جیسے کسی شخص کو گرم چیزوں سے نقصان ہوتا ہو اور وہ گرم چیزیں کھانے کے بعد اتنی مقدارقوت کی ٹھنڈی چیزیں کھا لے تو دونوں طرح کی چیزیں کھانے کے بعد ایسی کیفیت ہوگی گویا کہ اس نے دونوں ہی چیزیں نہیں کھائیں ۔اگر دونوں میں سے ایک غالب ہو تو وہ کسی اثر سے خالی نہیں ہوگی ۔تو جس طرح کھانے ،پانی اور دواؤں میں سے ذرہ بھر ضائع نہیں ہوتا اور سنَّتِ الٰہیہ کے مطابق جسم پر اس کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوتا ہے ۔اسی طرح ذرہ بھر بھلائی اور برائی ضائع نہیں ہوتی اور دل کو روشن یا تاریک کرنے ،یوں ہی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب یا اس سے دور کرنے میں ضرور مُؤثّر ہوتی ہے۔
پس جب بندہ ایسا عمل کرے جو اسے بالِشت بھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قریب کردے اس کے ساتھ ساتھ ایسے عمل کا بھی اختلاط ہوجائے جو اسے بالِشت بھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دور کردے تو وہ اپنی پہلی حالت پر رہے گا،نہ اسے ثواب ملے گا، نہ گناہ اور اگر عَملِ خیر ایسا ہو کہ دو بالِشت قریب کرتا ہے اور دوسرا عمل ایک بالِشت ہی دور کرتا ہے تو لامُحالہ عَملِ خیر کے لئے ایک بالِشت کی فضیلت باقی ر ہے گی۔
نیکی گناہ کو مٹادیتی ہے:
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ محبوب ہے:’’اَتْبِعِ السَّیِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُھَایعنی گناہ کے بعد نیکی کر لے کہ وہ اسے مٹا دے گی۔(1)
اجماعِ اُمَّت سے تائید:
غور کیجئے کہ جب خالص ریا کے بعد محض اخلاص اسے مٹادیتا ہے تو جس صورت میں دونوں جمع ہوجائیں تو لازمی طور پر دونوں ایک دوسرے کو دور کریں گے ۔اس بات کی تائید اجماعِ اُمَّت سے بھی ہوتی ہے کہ جو شخص حج کے لئے نکلے اور اس کے پاس سامانِ تجارت بھی ہو تو اس کا حج صحیح ہے اور اسے ثواب بھی ملے گا حالانکہ اس کے ساتھ ایک نفسانی غَرَض اور فائدے کی آمیزش ہوگئی ہے۔ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…سنن الترمذی، کتاب البر والصلة، باب ما جاء فی معاشرة الناس،۳/ ۳۹۷،حدیث:۱۹۹۴