Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
280 - 784
 بات ہمارے لئے ظاہر ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ قوتِ باعِث کی مقدار کو دیکھا جائے ، اگر باعِثِ دینی باعِث ِ نفسی کے مساوی(برابر) ہو تو دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہوکر ساقط ہوجائیں گے اور اس عمل کا نہ ثواب ہوگا، نہ گناہ اور اگر ریا کا باعِث غالب اور قوی ہو تو وہ عمل کچھ نفع نہ دے گا بلکہ الٹا نقصان دہ اور عذاب کولازم کرے گا۔البتہ اِس عمل کا عذاب اُس عمل کے عذاب سے ہلکا ہوگا جو خالص ریا کے ساتھ ہو اور جس میںتَقَرُّبْ اِلَی اللہ کا شائبہ تک نہ ہواور اگر تَقَرُّب کا قصد کسی دوسرے باعِث کی نسبت غالب ہو تو جس قدر باعِثِ دینی قوی ہوگا اسی قدر ثواب بھی زیادہ ہوگا اوراس پر درج ذیل فرامین باری تعالیٰ دلالت کرتے ہیں:
(1)…
فَمَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾ (پ۳۰،الزلزال:۸،۷) ترجمۂ کنز الایمان:توجوایک ذرہ بھربھلائی کرے اسے دیکھے گااورجوایک ذرہ بھربرائی کرے اسے دیکھے گا۔
(2)…
اِنَّ اللہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ ۚ وَ اِنۡ تَکُ حَسَنَۃً یُّضٰعِفْہَا (پ۵،النسآء:۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہایک ذرہ بھرظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہوتواسے دونی کرتا۔ 
	پتا چلا کہ خیر کا ارادہ ضائع نہیں ہوگا بلکہ اگر ریا کے ارادے پرخیر کا ارادہ غالب ہو تو ارادۂ ریا کے مساوی (برابر)ثواب باطل ہوجائے گا اورجوزائدمقدار ہوگی وہ باقی رہے گی اور اگرارادۂ خیرمغلوب ہو تو اتنی مقدار ارادۂ فاسد کے عذاب میں سے ساقط ہوجائے گی۔
قاعدے کی وضاحت:
	اس امر کی وضاحت یہ ہے کہ اعمال کی دلوں میں تاثیر ان کی صِفات کی تاکید کے اعتبار سے ہوا کرتی ہے۔ مثلاً: صِفَتِ ریامُہْلِکات(ہلاکت میں ڈالنے والے امور)میں سے ہے اور اس مہلک کی غذا اور قوت یہ ہے کہ اس کے موافق عمل کیا جائے اور صِفَتِ خیرمُنْجِیَات(نجات دلانے والے امور)میں سے ہے اور اس کی قوت اس کے موافق عمل کرنا ہے۔پس جب دل میں دوصِفات جمع ہوجائیں اوروہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوں تو اگر وہ