Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
28 - 784
جاتے ہیں جبکہ ذاتِ باری تعالٰی میں حقیقی طور پر پائے جاتے ہیں اور غیر کے حق میں ان کا پایا جانا وَہم اور خیال ہے اور محض مجاز ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ جب یہ بات ثابت ہوجائے گی تو ہر صاحبِ بصیرت پر اِس کی ضِدعِیاں(ظاہر)ہوجائے گی جس کا خیال کمزورعقل و دل والے کرتے ہیں کہ ”اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حقیقی محبت محال ہے۔“نیز یہ  واضح ہوجائے گا کہ تحقیق کا تقا ضا یہی ہے کہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی سے محبت نہ کریں۔
پانچوں اسباب کے لحاظ سے محبتِ الٰہی
وجود عطا فرمانے والی ہستی سے محبت:
٭…پہلے سبب کے لحاظ سے دیکھیں اوروہ  یہ ہے کہ انسان اپنے نفس،اپنی بقا، اپنے کمال اور اپنے دائمی وجود سے محبت کرتا ہے اور اپنی ہلاکت، معدوم ہونے، نقصان اور کمال میں رکاوٹ چیزوں سے نفرت کرتا ہے اور یہ چیزیں ہر ذی روح میں طبعی طورپر پائی جاتی ہیں اور ان سے خالی ہونا ممکن نہیں اور یہ چیزیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے انتہائی محبت کرنے کا تقاضا کرتی ہیں کیونکہ جس شخص کواپنی ذات کی پہچان ہو اور اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت بھی رکھتا ہو وہ قطعی طور پر جان لے گا کہ اس کا اپنا ذاتی کوئی وجود نہیں۔ اس کی ذات کا وجود اور اس کا کمال و دوام محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہے۔ وہی ذات اس کو عدم سے وجود میں لانے والی، اس کو باقی رکھنے والی اوراس کے وجود میں صفاتِ کمال ،ان کے اسباب اور ان کے استعمال کی ہدایت پیدا کرکے اسے کامل کرنے والی ہے۔ ورنہ بندے کا ذاتی حیثیت سے کوئی وجود نہیں بلکہ محض نفی اور عدم ہے۔ اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے  اپنے فضل سے عدم سے وجود میں نہ لاتااور باقی نہ رکھتا تو وجود میں آتے ہی ہلاک ہوجاتا اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی تخلیق کو مکمل کر کے اپنا فضل نہ فرماتا تو وجود میں آنے کے بعد ناقص ہی رہتا ۔
	اَلْغَرَض کوئی ایسی شے نہیں جوبذاتِ خود قائم ہو سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ،وہ خودقائم ہے اور اس کے سوا ہر شے اس کی ذات سے قائم ہے۔ پس اگر عارِف اپنی ذات سے محبت کرے اور اس کی ذات کا وجود غیر سے ہے تو لازمی طورپر وہ اس ذات سے محبت کرے گا جو اسے وجود اور دوام بخشنے والی ہے بشرطیکہ  وہ اسے خالق،عدم سے وجود میں لانے والا،باقی رکھنے والا،بذاتِ خود قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والا جانےاور اگر اس ذات سے محبت نہیں کرتاتو وہ اپنی ذات اور اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے جاہل ہے  نیز محبت تو معرفت کا پھل ہوا