Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
279 - 784
ایک سالہ عبادت سے افضل:
	اسی لئے فرمایا گیا ہے:رَکْعَتَانِ مِنْ عَالِمٍ اَفْضَلُ مِنْ عِبَـادَةِ سَنَةٍ مِّنْ جَاھِلٍیعنی عالِم کی دو رکعتیں جاہل کی ایک سالہ عبادت سے افضل ہیں۔
	اس سے مراد وہ عالِم ہے جوآفاتِ اعمال کی باریکیوں کو جانتا ہو تا کہ اپنے اعمال کو ان(آفات)سے بچا سکےکیونکہ جاہل ظاہری عبادت کو دیکھتااور اس سے دھوکاکھا بیٹھتا ہے ،جیسے کوئی دیہاتی دینار کی ظاہری سرخی اور گولائی دیکھ کر دھوکے میں آجائے حالانکہ فی نفسہٖ وہ کھوٹا دینار ہوتا ہے اور ایک قیراط(یعنی درہم کا بارواں حصہ) خالص سونا جسے  ماہراور تجربہ کار آدمی پسند کرتا ہے اس دینار سے بہتر ہے جسے  جاہل اور غبی شخص اچھا سمجھتا ہے۔
	اسی طرح عبادات کے معاملے میں تفاوُت ہوتا ہے بلکہ بہت زیادہ اور بڑا تفاوُت ہوتا ہےاور مختلف اعمال میں اس قدرآفات داخل ہوتی ہیں کہ ان کا شمار نا ممکن ہے۔ جو مثال ہم نے ذکر کی ہے اسی سے فائدہ حاصل کرنا چاہئے اور سمجھدار آدمی کے لئے تھوڑی سی بات بھی کافی ہوتی ہے جبکہ غَبِی شخص کو طویل گفتگو بھی فائدہ نہیں دیتی، اس لئے تفصیل کا اس کے حق میں کوئی فائدہ نہیں۔
پانچویں فصل:		مَخْلُوط عَمَل کا حُکْم اور اس کے ثواب کا بیان
اس بارے میں قاعدہ :
	جان لیجئے کہ عمل جب خالصتاًاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے نہ ہو بلکہ اس میں ریایا نفسانی اَغراض کی آمیزش ہوتو عُلَما کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ایسے عمل پر آیا ثواب ملے گا یا عذاب ہوگا یا کچھ بھی نہیں ہوگا کہ نہ اس کو ثواب ملے اور نہ اس پر عذاب ہو؟لیکن جس عمل سے مقصود صرف ریا ہو تو اس کا قطعی طور پر گناہ ہوگا اور وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی ناراضی اور عذاب کا سبب ہے اور جو عمل خالصتاً اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہو گا تو وہ ثواب کا سبب ہے،اختلاف صرف اس عمل میں ہے جو غیر کے ساتھ مخلوط ہواورروایات کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس عمل کا کوئی ثواب نہیں(1)لیکن اس بارے میں واردرِوایات میں تعارُض ہے۔ اس سلسلے میں جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…نسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا یلتمس الاجر والذکر،ص۵۱۰، حدیث:۳۱۳۷
	سنن ابی داود، کتاب الجھاد، باب فیمن یغزو ویلتمس الدنیا،۳/ ۲۰،حدیث:۲۵۱۶