ہر حرکت پر ریاکاری کا خطرہ:
شیطان سے کوئی نہیں بچ سکتا مگر وہ جس کی نظر گہری ہواوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی حفاظت،توفیق اوراس کی ہدایت سے بہرہ مند ہو۔ ورنہ شیطان تو ہر وقت عبادتِ الٰہی کے لئے کمر بستہ لوگوں کی تاک میں لگا ہوا ہے، ایک لمحہ کے لئے ان سے غافل نہیں ہوتایہاں تک کہ انہیں ہر ہر حرکت حتّٰی کہ آنکھوں میں سُرمہ لگانے، مونچھیں پست کرنے،جمعہ کے دن خو شبو لگانے اوراچھے کپڑے پہننے میں بھی ریا کاری پر اُبھارتا ہے کیونکہ یہ تمام افعال مخصوص اوقات میں سنت ہیں اور نفس کا ان میں ایک خفی فائدہ اور غَرَض ہے کیونکہ لوگوں کی نظریں ان افعال کی طرف ہوتی ہیں اور طبیعت کو ان میں رغبت ہوتی ہے۔پس شیطان بندے کو ان افعال کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے :”یہ کام سنت ہے اسے ترک نہیں کرنا چاہئے۔“اور خفی شہوت کی وجہ سے باطنی طور پر دل میں اس فعل کی طرف اُبھار پیدا ہوتا ہے یا اس میں کچھ آمیزش ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اخلاص کی حد سے نکل جاتاہے اورجو ان تمام آفات سے خالی نہ ہو وہ خالص نہیں بلکہ جو شخص کسی آباد،صاف ستھری اور عمدہ بنی ہوئی مسجد میں اعتکاف کرے جس میں اس کا دل لگتا ہے تو شیطان اسے اس مسجد میں اعتکاف کی رغبت دلاتا اوراس کے سامنے اعتکاف کے فضائل بکثرت بیان کرتا ہے ایسی صورت میں بعض اوقات اس کا مُحَرِّکِ خفی یعنی مسجد کی خوبصورتی کی وجہ سے دل لگنا اور طبیعت کا اس سے راحت پاناہوتا ہے اور یہ بات اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب دو مسجدیں خوبصورت ہوں اور اس کا میلان دونوں میں سے زیادہ خوبصورت مسجد کی طرف ہو ۔یہ تمام صورتیں طبیعت کی آمیزشوں اور نفس کی کدورتوں کے ساتھ مخلوط اور حقیقتِ اخلاص کو برباد کرنے والی ہیں۔
سب سے زیادہ مخفی کھوٹ:
وہ کھوٹ جو خالص سونے کے ساتھ ملی ہوئی ہو اس کے مختلف دَرَجات ہیں،کوئی کھوٹ سونے پر غالب ہوتی ہے اورکوئی کم ہوتی ہے لیکن بآسانی معلوم ہوجاتی ہے اور کوئی کھوٹ انتہائی دقیق ہوتی ہے کہ خوب پرکھنے والا تجربہ کار آدمی ہی اسے جان سکتا ہے ۔دل کا کھوٹ،شیطان کا مکر و فریب اور نفس کی خباثت اس سے کہیں زیادہ دقیق اور پوشیدہ ہوتے ہیں۔