Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
277 - 784
 اورانسانوں کا اسے  نماز کی حالت میں دیکھنا اس کے نزدیک یکساں ہو۔تو گویا اس کا نفس لوگوں کے سامنے کوتاہی کے ساتھ نماز ادا کرنا پسند نہیں کرتا پھر اپنے دل میں شرماتا ہے کہ کہیں ریا کاروں کی صورت میں داخل نہ ہوجائے اور سمجھتا ہے کہ اگر اس کی خلوت وجلوت کی نمازوں میں یکسانیت ہوجائے تو ریا کاری ختم ہو جائے گی۔ مگر افسوس ایسا نہیں ہے بلکہ ریاکاری اس طرح ختم ہوسکتی ہے کہ جلوت و خلوت میں انسانوں کی طرف التفات ایسا ہی ہو جیسے جانوروں کی طرف ہوتا ہے اور یہ اسی شخص سے ہوسکتا ہے جس کی توجہ جلوت و خلوت دونوں حالتوں میں مخلوق سے ہٹی ہوئی ہو۔اَلْغَرَض اس درجہ کا معاملہ شیطان کے خفیہ فریبوں میں سے ہے۔
چوتھا درجہ:
	یہ سب سے زیادہ دقیق اورپوشیدہ ہے کہ لوگ اسے نماز پڑھتا ہوا دیکھیں،شیطان اس سے یہ تو نہ کہہ سکے کہ’’ان کی خاطر خشوع اختیار کر‘‘کیونکہ شیطان کو معلوم ہے کہ نمازی یہ فریب سمجھتا ہے ،اس لئے شیطان اس سے یوں کہتا ہے:’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی عظمت و جلال میں تفکر کراورغور کر کہ تُو کس کے سامنے کھڑا ہے اور ا س بات سے حیا کر کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّتیرے دل کی طرف نظر فرمائے اور تیرا دل اس سے غافل ہو۔‘‘یہ خیال آنے سے اس کا دل حاضر اور اعضاء میں خشوع پیدا ہوجاتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ یہ عین اخلاص ہے حالانکہ یہ عین مکر اور دھوکا ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ خشوع اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے جلال کی طرف نظر کرنے کی وجہ سے ہوتا تو خلوت میں بھی ایسا ہوتا اور یہ کیفیت کسی کے حاضر ہونے اور دیکھنے کے ساتھ خاص نہ ہوتی ۔اس آفت سے محفوظ ہونے کی علامت یہ ہے کہ یہ خیال خلوت میں بھی اس کے ساتھ اسی طرح رہے جس طرح جلوت میں رہتا ہے اور کسی کی موجودگی اس خیال کا سبب نہ بنے جس طرح جانوروں کی موجودگی اس خیال کا سبب نہیں بنتی۔
	بہر حال جب تک وہ انسان کے دیکھنے اور جانور کے دیکھنے سے اپنے احوال میں فرق کرتا رہے گا تب تک وہ پاک صاف اور کامل اخلاص سے خارج رہے گا۔اس کا باطن شرکِ خفی یعنی ریا سے آلودہ رہے گا اور یہ شرک انسان کے دل میں سیاہ چیونٹی کی چال سے زیادہ خفی ہے جو اندھیری رات میں سخت پتھر پر چلے، جیساکہ حدیثِ پاک میں آیا ہے۔(1) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
…نوادر الاصول، الاصل ا لسادس والسبعون والمائتان،۲/ ۱۱۹۷،حدیث:۱۴۹۶