Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
275 - 784
حدیث پا ک کی شرح:
	حدیث شریف کا معنیٰ ومفہوم یہ ہے کہ”تُو اپنی خواہشات اور نفس کی اطاعت نہ کرصرف اپنے ربعَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کر پھر اس کی عبادت میں جیساتجھے حکم دیا گیا ہے اس کے مطابق استقامت اختیار کر۔“یہغَیْرُاللہ سے قَطْعِ نظرکر نے کی طرف اشارہ ہے اور یہی حقیقی اخلاص ہے۔
چوتھی فصل:	اِخلاص کو گَدلا کرنے والی آفات اورآمیزشوں
                                                                     کے دَرَجات کا بیان
پہلا درجہ:
	جان لیجئے کہ اخلاص کو خراب کرنے والی آفات میں سے بعض واضح ہیں،بعض پوشیدہ  پھربعض واضح ہونے کے باوجودکمزور ہیں اوربعض پوشیدہ ہونے کے باوجودقوی ہیں۔پوشیدہ اورظاہر ہونے میں ان کے درجات میں تفاوُت کو ایک مثال کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہےاور اخلاص کو خراب کرنے والی چیز وں میں سب سے زیادہ واضح اور ظاہر ریا ہے تو ہم اسی کے تعلُّق سے  ایک مثال ذکر کرتے ہیں:
ایک مثال:
	جیسے شیطان اس وقت نمازی پر آفت ڈھاتا ہے جب وہ اخلاص کے ساتھ اپنی نماز پڑھ رہا ہواور پھر کچھ لوگ اسے  دیکھ لیں یا کوئی آدمی اس کے پاس آئے تو شیطان اس سے کہتا ہے:نماز اچھی طرح پڑھوتاکہ یہ دیکھنے والا تمہیں تعظیم کی نگاہ سے دیکھے، تمہیں نیک سمجھے، تمہیں حقیر نہ جانے اور تمہاری غیبت نہ کرے۔ پس اس وجہ سے وہ اپنے اعضاء میں خشوع و خضوع ظاہر کرے اور نماز عمدگی سے پڑھے تو یہ واضح اور ظاہر ریا ہے اور ریا کی یہ قسم مُبْتَدی مریدین پر بھی مخفی نہیں ہوتی۔
دوسرا درجہ:
	مرید اس آفت کو سمجھ گیا ہو اور اس سے اپنا بچاؤ کر لیا ہو پس وہ شیطان کی اطاعت نہیں کرتا اور نہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے بلکہ جس طرح پہلے نماز میں تھا اسی طرح اسے  جاری رکھتا ہے،اب شیطان اس کے پاس