Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :5)
274 - 784
(11)…حضرت سیِّدُنا عیسٰیرُوْحُاللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے حواریوں نے آپ کی بارگاہ میں عرض کی:اعمال میں خالص کون ہے؟ارشادفرمایا:”جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے عمل کرتا ہے اور پسند نہیں کرتا کہ اس پر کوئی اس کی تعریف کرے ۔“
	اس فرمان میں بھی ترکِ رِیا کی طرف اشارہ ہے اور اسے خاص طور پر اس لئے ذکر فرمایا کیونکہ یہ اخلاص میں خلل ڈالنے والے اسباب میں سے قوی سبب ہے۔
کدورتوں سے صاف عمل:
(12)…حضرت سیِّدُناجُنَیْدبغدادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں:عمل کو کدورتوں سے صاف کرنے کا نام اخلاص ہے۔
(13)…حضرت سیِّدُنا فُضَیْل بن عِیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:لوگوں کی وجہ سے عمل چھوڑ دینا رِیا اور لوگوں کی خاطر عمل کرنا شرک ہے اوراِخلاص یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّتمہیں ان دونوں باتوں سے بچائے۔
(14)…کسی نے کہا ہے:”دائمی مراقبہ اور تمام فوائد کو فراموش کر دینے کا نام اخلاص ہے۔“
	اخلاص کے متعلق یہ کامل بیان ہے۔(1)
اِخلاص کا نبوی بیان:
	اخلاص کے بارے میں اقوال کثیرہیں اورحقیقَتِ اخلاص منکشف ہوجانے کے بعد زیادہ اقوال نقل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اور اس بارے میں بیانِ شافی اَوَّلین و آخرین کے سردار،نبوت کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاارشادِخوشبودار ہے۔چنانچہ جب بارگاہِ رسالت میں اخلاص کے متعلق سوال ہوا تو ارشاد فرمایا: (اِخلاص یہ ہے کہ)تُو کہے:” میرا رب اللہعَزَّ  وَجَلَّہے۔ “پھر استقامت اختیار کرے جیسا تجھے حکم دیا گیا۔(2) 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1…کیونکہ دائمی مراقبہ ہمہ وقت عبادت میں مستغرق رہنے کا تقاضا کرتا ہے اور اس میں مستغرق شخص اپنے تمام اَحوال میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّکے سوا کسی طرف اِلتفات نہیں کرتا اور فوائد کو فراموش کرنا اپنے اخلاص میں کسی طرف نہ دیکھنے کا تقاضا کرتا ہے۔پس اس لحاظ سے یہ اخلاص کے تمام معانی کو جامع ہے۔(اتحاف السادة المتقین،۱۳/۱۰۶)
2…سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب کف اللسان فی الفتنة،۴/ ۳۴۱،حدیث:۳۹۷۲